فرانس: دائیں بازو کی اکثریت متوقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے نکولس سرکوزی کی کامیابی کے ایک ماہ بعد اب پارلیمانی انتخابات میں ان کے اور سوشلست پارٹی کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ انتخابات میں سرکوزی کی جماعت یو ایم پی کی قومی اسمبلی میں اکثریت میں اضافہ ہو جائے گا۔ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بار امکان ہے کہ گزشتہ تیس سال میں پہلی بار فرانس میں کوئی جماعت انتخابات میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گی۔ صدر سرکوزی کی جماعت کی کامیابی کی صورت میں انہیں اپنے پر عزم اقتصادی پروگرام پر عملدرآمد کے لیے حمایت حاصل ہو جائے گی۔ سرکوزی کہہ چکے ہیں کہ وہ جولائی میں سیاسی اصلاحات کا عمل شروع کر دیں گے جن میں سخت امیگریشن قوانین اور جامعات کے لیے زیادہ آزادی شامل ہیں۔ ان کے نئے فائنانس بِل کی منظوری کے بعد اوورٹائم پر ٹیکس اور زیادہ تر لوگوں کے لیے وراثتی ٹیکس ختم ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ انفرادی ٹیکس کی حد پچاس فیصد مقرر کر دی جائے گی۔ سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ فرانسوا ہالینڈ نے کہا کہ وہ مستعفی ہو جائیں گے اور ان کی جگہ ان کی شریک حیات سیگولین رویال لے لیں گی جو چار بچوں کی ماں بھی ہیں۔ پارلیمانی انتخابات میں چھوٹی جماعتوں سے زیادہ اچھی کارکردگی کی توقع نہیں کی جا رہی۔ | اسی بارے میں فرانس کے نئے وزیراعظم تعینات18 May, 2007 | آس پاس ’فرانس میں تبدیلی کی ضرورت ہے‘16 May, 2007 | آس پاس فرانس کے انتخابات سرکوزی کامیاب06 May, 2007 | آس پاس فرانس: خاتون صدارتی امیدوار 30 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||