ایلن جونسٹن کی ویڈیو انٹرنیٹ پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں بی بی سی کے صحافی ایلن جونسٹن کو اغوا کے بعد پہلی بار دکھایا گیا ہے۔ انہیں بارہ مارچ کو غزہ سے اغوا کیا گیا تھا۔ خیال ہے کہ ویڈیو جیش اسلام نامی تنظیم نے جاری کی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بی بی سی کے رپورٹر کو اغوا کیا۔ وڈیو پر پینتالیس سالہ ایلن جونسٹن کو کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ان کی صحت اچھی ہے اور ان کو اغوا کرنے والوں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے۔
برطانوی وزارت خارجہ اور بی بی سی نے کہا ہے کہ انہیں ویڈیو کے بارے میں اطلاعات کا علم ہے اور وہ معلومات اکٹھا کر رہے ہیں۔ بی بی سی نے جونسٹن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ کب ریکارڈ کی گئی تھی اور جونسٹن نے کن حالات میں اپنا بیان ریکارڈ کیا۔ جونسٹن کے اہلِ خانہ نے ویڈیو پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں یہ سن کر خوشی ہوئی کہ ایلن کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کو ان حالات میں دیکھنا تکلیف دہ تھا اور امید ظاہر کی کہ انہیں جلد چھوڑ دیا جائے گا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے جو جنوبی افریقہ کے دورے پر ہیں ویڈیو پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان کی رہائی کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور انہوں نے جونسٹن کے کردار کی تعریف کی۔
گورڈن براؤن نے جو اگلے ماہ برطانیہ کے وزیر اعظم بننے والے ہیں کہا کہ حکومت ہنگامی طور پر ویڈیو کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جونسٹن کو اغوا کرنے والے انہیں حراست میں رکھ کر اپنا کوئی مقصد حل نہیں کر رہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ وہ جونسٹن کی رہائی کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اغواکاروں سے کہا کہ وہ جونسٹن کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ ویڈیو میں جونسٹن نے سرخ قمیض پہنی ہوئی ہے اور وہ فلسطینی انتظامیہ کی حکومت کے خلاف مغربی ممالک کی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی تکالیف کا بھی ذکر کیا۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ’ہر روز فلسطینیوں کی بلا وجہ گرفتاریاں ہوتی ہیں۔ روزانہ لوگ مر رہے ہیں اور اقتصادی حالات انتہائی دگرگوں ہیں خاص طور پر غزہ میں‘۔
ویڈیو کے اختتام میں وہ اپنے خاندان والوں کے لیے کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن وہ وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ اس ٹیپ میں جیش اسلام نے برطانوی حکومت سے سخت گیر موقف رکھنے والے ایک فلسطینی عالم ابو قتادہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل مئی کے شروع میں بھی جیش اسلام نے ہی ایک ویڈیو میں جونسٹن کا شناختی کارڈ دکھایا تھا اور ابو قتادہ کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس کے علاوہ ابھی تک بی بی سی کے رپورٹر کے بارے میں کوئی خبر نہیں مِل سکی۔ | اسی بارے میں ایلن جونسٹن کے بدلے ابوقتادہ09 May, 2007 | آس پاس ایلن جونسٹن کی سالگرہ17 May, 2007 | آس پاس ایلن جانسٹن کے لیے پھرمظاہرے07 April, 2007 | آس پاس فلسطین: صحافی کے لیے مظاہرے07 April, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||