ہفتے نہیں مہینے لگ سکتے ہیں: بُش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے پانچویں سال کے آغاز پر امریکی صدر جارج بُش نے کہا ہے کہ عراق کی صورتحال میں بہتری میں ہفتے نہیں مہینے لگ سکتے ہیں۔ جارج بُش نے عراق میں چوتھا سال مکمل ہونے کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ان لوگوں کو جو عراق میں فرائض انجام دے رہے ہیں امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اس موقع پر امریکہ نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو یہ امریکہ کی سلامتی کے لیے تباہ کن ہوگا۔
صدر بُش نے وائٹ ہاؤس میں اپنے آٹھ منٹ طویل خطاب میں کہا کہ ’اس جنگ کے شروع ہونے کے چار سال بعد لڑائی مشکل ہو چکی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اٹھائیس ہزار مزید فوجی عراق بھیجنے کے منصوبے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے اس نئے منصوبے کے دوران اچھے اور برے دن دیکھنے کو ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات امریکی افواج کے انخلاء سے پورے عراق میں تشدد کی لہر دوڑ جائے گی جو بعد میں پورے خطے کو لپیٹ میں لے لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’اس افراتفری میں دہشت گرد پیدا ہوں گے جن کے لیے عراق محفوظ مقام کے طور پر افغانستان کی جگہ لے لے گا جہاں سے گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی‘۔ ’امریکی عوام کے تحفظ کے لیے ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے‘۔ | اسی بارے میں امریکہ،یورپ: جنگ مخالف مظاہرے18 March, 2007 | آس پاس بغداد: ’پرامیدی کی گنجائش ہے‘18 March, 2007 | آس پاس عراقیوں میں ’بڑھتی ہوئی نااُمیدی‘19 March, 2007 | آس پاس عراق کی تعمیرِ نو، عالمی مدد کی اپیل17 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||