شھنگرائی انتہائی نگہداشت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے میں حزب اختلاف کے رہنما مورگن شھنگرائی کا ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں پولیس کی تحویل میں لگنے والے زخموں کا معائنہ کیا گیا۔ مسٹر شھنگرائی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گزشتہ رات انہیں دو پنٹ خون دیا گیا اور فریکچر کے خدشے کی وجہ سے مسٹر شھنگرائی کے سر کا سکین بھی کیا گیا ہے۔‘ مسٹر شھنگرائی کو حزب احتلاف کے درجنوں سرگرم کارکنوں کے ساتھ اتوار کے دن ایک ریلی کے دوران پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ بدھ کے روز مسٹر شھنگرائی کو عدالت میں پیش کرنا تھا لیکن ان کی حالت خاصی خراب ہونے کی وجہ سے وہ پیش نہ ہوسکے۔ لہذا سماعت ملتوی کردی گئی۔ مسٹر شھنگرائی کے ترجمان ولیم بونگو نے بتایا کہ ’آج صبح عدالت پہنچنے پر ان سے کہا گیا کہ کہ وہ چلے جائیں۔ لگتا ہے کہ ان پر عائد کیے گئے الزام پر کچھ ابہام ہیں۔‘ موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج (ایم ڈی سی) کے سربراہ مسٹر شھنگرائی نے منگل کے روز عدالت سے باہر آتے ہوئے پولیس کے سلوک پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’پولیس نے نہتے شہریوں پر حملہ کیا ہے لیکن جدوجہد جاری رہے گی۔‘ ایم ڈی سی کے ایک رکن ٹینڈے بی ٹی نے بی بی سی کو مسٹر شھنگرائی پر پولیس تشدد کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا: ’ایک ایسا بھی وقت آیا جب پولیس نے انہیں مسلسل 15 منٹ تک ڈنڈوں سے مارا۔ اس دوران وہ یقیناً کم از کم تین مرتبہ بیہوش ہوئے ہونگے۔‘ جنوبی افریقہ نے پڑوسی ملک زمبابوے پر تنقید کرتے ہوئے صدر رابرٹ موگابے پر زور دیا ہے کہ وہ حزب اختلاف کے رہنماؤں سمیت اپنے تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کریں۔ اتوار کے مظاہرے پر رابرٹ موگابے کی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائی پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے علاوہ یورپی یونین اور امریکہ نے بھی سخت مذمت کی ہے۔ امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے مسٹر شھنگرائی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’بین الاقوامی برادری کو ایک بار پھر دکھایا گیا ہے کہ رابرٹ موگابے کی حکومت سفاک اور ظالم ہے اور زمبابوے کے شہریوں کے لئے وہ صرف مشکلات ہی پیدا کرتی ہے۔‘ زمبابوے کے وزیر اطلاعات سکھانیسو نڈلوو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس افسران اپنی کاروائی میں حق بجانب تھے کیونکہ ان پر پہلے حزب اختلاف کے کارکنوں نے حملہ کیا تھا۔‘ زمبابوے کی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتوار کا مظاہرہ ملک میں تمام سیاسی اجتماعات پر لگی اس پابندی کی خلاف ورزی تھا جو گزشتہ ماہ ایک مظاہرے میں تشدد کے بعد عائد کی گئی تھی۔ زمبابوے کے عوام میں بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کی وجہ سے بیچینی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں بیروزگاری عام ہے اور افراط زر کی شرح 1700 فیصد ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ | اسی بارے میں زمبابوے: باغی کپتان ٹیم میں واپس25 February, 2005 | کھیل زمبابوے میں پھر کرکٹ کابحران22 December, 2005 | کھیل ’زمبابوے نہیں جانا چاہتے‘24 May, 2006 | کھیل سفید فاموں کی زمین پر قبضہ جائز12 November, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||