BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 March, 2007, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شھنگرائی انتہائی نگہداشت میں
مورگن شنگھرائی کو ایک ریلی کے دوران حراست میں لیا گیا
زمبابوے میں حزب اختلاف کے رہنما مورگن شھنگرائی کا ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں پولیس کی تحویل میں لگنے والے زخموں کا معائنہ کیا گیا۔

مسٹر شھنگرائی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گزشتہ رات انہیں دو پنٹ خون دیا گیا اور فریکچر کے خدشے کی وجہ سے مسٹر شھنگرائی کے سر کا سکین بھی کیا گیا ہے۔‘

مسٹر شھنگرائی کو حزب احتلاف کے درجنوں سرگرم کارکنوں کے ساتھ اتوار کے دن ایک ریلی کے دوران پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ بدھ کے روز مسٹر شھنگرائی کو عدالت میں پیش کرنا تھا لیکن ان کی حالت خاصی خراب ہونے کی وجہ سے وہ پیش نہ ہوسکے۔ لہذا سماعت ملتوی کردی گئی۔

مسٹر شھنگرائی کے ترجمان ولیم بونگو نے بتایا کہ ’آج صبح عدالت پہنچنے پر ان سے کہا گیا کہ کہ وہ چلے جائیں۔ لگتا ہے کہ ان پر عائد کیے گئے الزام پر کچھ ابہام ہیں۔‘

بین الاقوامی برادری کو ایک بار پھر دکھایا گیا ہے کہ رابرٹ موگابے کی حکومت سفاک اور ظالم ہے اور زمبابوے کے شہریوں کے لئے وہ صرف مشکلات ہی پیدا کرتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس
مسٹر شھنگرائی اور 49 دیگر افراد کو منگل کے روز دارالحکومت ہرارے کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کے وکلاء کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان سب کو پولیس کی تحویل سے رہا کردیا گیا ہے جبکہ ان افراد میں سے کئی اب تک ہسپتال میں داخل ہیں۔

موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج (ایم ڈی سی) کے سربراہ مسٹر شھنگرائی نے منگل کے روز عدالت سے باہر آتے ہوئے پولیس کے سلوک پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’پولیس نے نہتے شہریوں پر حملہ کیا ہے لیکن جدوجہد جاری رہے گی۔‘

ایم ڈی سی کے ایک رکن ٹینڈے بی ٹی نے بی بی سی کو مسٹر شھنگرائی پر پولیس تشدد کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا: ’ایک ایسا بھی وقت آیا جب پولیس نے انہیں مسلسل 15 منٹ تک ڈنڈوں سے مارا۔ اس دوران وہ یقیناً کم از کم تین مرتبہ بیہوش ہوئے ہونگے۔‘

جنوبی افریقہ نے پڑوسی ملک زمبابوے پر تنقید کرتے ہوئے صدر رابرٹ موگابے پر زور دیا ہے کہ وہ حزب اختلاف کے رہنماؤں سمیت اپنے تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کریں۔

اتوار کے مظاہرے پر رابرٹ موگابے کی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائی پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے علاوہ یورپی یونین اور امریکہ نے بھی سخت مذمت کی ہے۔

امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے مسٹر شھنگرائی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’بین الاقوامی برادری کو ایک بار پھر دکھایا گیا ہے کہ رابرٹ موگابے کی حکومت سفاک اور ظالم ہے اور زمبابوے کے شہریوں کے لئے وہ صرف مشکلات ہی پیدا کرتی ہے۔‘

زمبابوے کے وزیر اطلاعات سکھانیسو نڈلوو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس افسران اپنی کاروائی میں حق بجانب تھے کیونکہ ان پر پہلے حزب اختلاف کے کارکنوں نے حملہ کیا تھا۔‘

زمبابوے کی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتوار کا مظاہرہ ملک میں تمام سیاسی اجتماعات پر لگی اس پابندی کی خلاف ورزی تھا جو گزشتہ ماہ ایک مظاہرے میں تشدد کے بعد عائد کی گئی تھی۔

زمبابوے کے عوام میں بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کی وجہ سے بیچینی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں بیروزگاری عام ہے اور افراط زر کی شرح 1700 فیصد ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد