زمبابوے میں پھر کرکٹ کابحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے کی کرکٹ ٹیم نے کرکٹ بورڈ کے رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کرکٹ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ زمبابوے کے کھلاڑیوں کو میچ کھیلنے کا معاوضہ ، تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور کرکٹ بورڈ کے حکام کے رویے سے شکایت ہیں۔ اس سے پہلے زمبابوے کے کھلاڑی بورڈ کے رویے کے خلاف احتجاجاً کرکٹ کھیلنے سے انکار کر چکے ہیں اور زمبابوے کےمشہور کھلاڑی اینڈی فلاور اور فاسٹ بولر ہنری اولنگا ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ زمبابوے پروفیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق زمبابوے میں کرکٹ بورڈ کے حکام نے جس طرح کے حالات پیدا کر دیے ہیں ان حالات میں ان کے لیے کھیل جاری رکھنا ممکمن نہیں ہے اور موجودہ کرکٹ کے تمام کھلاڑی کسی ٹورنامنٹ میں شرکت کے دستیاب نہیں ہوں گے۔ زمبابوے کی ٹیم کو اگلے مہینے بنگلہ دیش میں ہونے والی ایفرو ایشیا کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کرنا ہے۔ سولہ جنوری سے شروع ہونے والے ایفروایشیا ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش، انڈیا،پاکستان، سری لنکا، جنوبی افریقہ، اور زمبابوے نے حصہ لینا ہے۔ کھلاڑیوں کے نمائندے بلیسنگ ماوئر نے کہا کہ کوئی کھلاڑی ایفرو ایشیا کے دستیاب نہیں ہو گا اور وہ منتظمین کو وقت سے پہلے اسی لیے بتا رہے ہیں تاکہ وہ متبادل ٹیم کا بندوبست کر لیں۔ زمبابوے کے کپتان تاتیندا تیبو نے حال ہی میں کرکٹ کی کپتانی اور ملک کے لیے کھیلنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ زمبابوے میں کھلاڑیوں کے لیے جس طرح کے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں وہ اس میں کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔ | اسی بارے میں زمبابوے : ٹیسٹ کا درجہ خطرے میں20 May, 2004 | کھیل زمبابوے کرکٹ، تعصب سے پاک17 October, 2004 | کھیل ورلڈ کپ کے نوجوان | کھیل زمبابوے: باغی کپتان ٹیم میں واپس25 February, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||