ایشیائی ڈرائیور کے قتل پر سزائیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے شمالی شہر لیڈز میں ایک ایشیائی ڈرائیور کو مار مار کر ہلاک کرنے پر چار سفید فام نوجوانوں کو قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اکتالیس سالہ محمد پرویز کا قتل ناقابلِ یقین حد تک بہیمانہ ہے۔ ہڈرز فیلڈ میں یہ قتل گزشتہ جولائی میں ہوا تھا اور ملزمان کے وکلا نے عدالت کو بتایا تھا کے ملزمان میں ایک کے سکوٹر کو کچھ عرصہ قبل ایشیائی نوجوانوں کے ایک گروہ سے تصادم کے دوران نقصان پہنچا تھا۔ جن ایشیائی نوجوانوں سے سکوٹر والے نوجوان کا تصادم ہوا تھا وہ محمد پرویز کی ٹیکسی میں کہیں جا رہے تھے۔ ہلاکت میں ملوث چار میں سے دو کی عمریں سترہ اور اٹھارہ سال ہیں اور عدالت نے کہا کہ انہیں لازماً سترہ سال قید کی سزا کاٹنی چاہیے۔ جب کے دوسرے دو نوجوانوں کو، جن کی عمریں انیس انیس سال ہیں اکیس اور پچیس سال کی سزائیں کاٹنی ہوں گی۔ اکتالیس سالہ محمد پرویز تین بچوں کے والد تھے۔ سزائیں پانے والوں میں گریمی سلاون اور اور کرسٹوفر مرفی کی عمریں انیس انیس سال سال ہیں۔ ان پر فردِ جرم پہلے ہی ثابت ہو چکی ہے۔ دیگر ملزمان میں سے انیس سالہ مائیکل ہینڈ نے ابتدائی سماعت ہی میں قتل کا اعتراف کر لیا تھا۔ جب کہ سولہ سالہ مائیکل بی بی اور سترہ سالہ جیسقن ہیرس قتل کے الزام کا مرتکب نہیں پایا گیا۔ | اسی بارے میں ایشیائی ڈرائیور کے قتل کا جرم ثابت27 January, 2007 | آس پاس شلپا:نسل پرستی کا شکار نہیں ہوئی19 January, 2007 | فن فنکار نسل پرستی: اداکارہ باغدو پر جرمانہ11 June, 2004 | فن فنکار نسل پرستی: اداکارہ باغدو پر جرمانہ11 June, 2004 | فن فنکار برطانوی پولیس میں نسل پرستی21 October, 2003 | آس پاس ’پاکی‘ کہنا نسل پرستی ہے18.06.2003 | صفحۂ اول برطانیہ اور نسل پرستی20.05.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||