BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 January, 2007, 04:10 GMT 09:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشیائی ڈرائیور کے قتل کا جرم ثابت
محمد پرویز کے جسم پر تیئیس زخم آئے جن میں سر پر آنے والا تین انچ کا گھاؤ بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ ان کے گال کی ہڈی اور پسلیاں بھی ٹوٹ گئی تھیں
نسل پرستی کی بنا پر ایک ایشیائی ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کرنے والے چار سفید فام نوجوانوں کو قید کی سزا دی گئی ہے۔

ان نوجوانوں نے ہڈرزفیلڈ میں تین بچوں کے والد اکتالیس سالہ محمد پرویز کو گزشتہ سال جولائی میں مار مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

گریمی سلاون اور اور کرسٹوفر مرفی جن کی عمریں اٹھارہ اٹھارہ سال ہیں اور سترہ سالہ سٹیوینسن اٹلے پر لیڈز کی عدالت میں فرد جرم ثابت ہو چکی ہے۔

دیگر ملزمان میں سے انیس سالہ مائیکل ہینڈ نے ابتدائی سماعت ہی میں قتل کا اعتراف کر لیا تھا۔ جب کہ سولہ سالہ مائکل بی بی اور سترہ سالہ جیسقن ہیرس قتل کے الزام کا مرتکب نہیں پایا گیا۔

بی بی کو متشددانہ رحجان کا کا مرتکب پایا گیا جب کے ان کے دوسرے ساتھی پہلے ہی مرتکب ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔

ان نوجوانوں نے محمد پرویز کو ٹیکسی میں لے جانے کے لیے کہا اور بالکل اندازہ نہیں لگا سکے انہیں لے جانے کے لیے کہنے والے محض مسافر نہیں ہیں۔

ویسٹ یارکشائر کے ڈپٹی سپرینٹینڈنٹ پولیس ٹم فوربر نے اس فیصلے کے بعد کہا ہے کہ ’اس فیصلے سے محمد پرویز کے خاندان کو کچھ سکون حاصل ہو گا اور آج سے وہ اپنی زندگیوں میں آگے کی طرف بڑھنا شروع کریں گے‘۔

گریمی سلاون اور اور کرسٹوفر مرفی جن کی عمریں اٹھارہ اٹھارہ سال ہیں اور سترہ سالہ سٹیوینسن اٹلے پر لیڈز کی عدالت میں فرد جرم ثابت ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’محمد پرویز محنتی انسان، تین بچوں کے والد اور ایک محبت کرنے والے شوہر تھے اور ان کی زندگی اس لیے ختم ہو گئی کہ وہ ایک احمقانہ تشدد کا نشانہ بن گئے۔ یہ واقعہ مطلق اکھڑ دماغی کی مثال ہے‘۔

ابھی سزائیں شروع ہونے کی تاریخ کا تعین ہونا ہے۔ محمد پرویز کے جسم پر کوئی جوابی یا دفاعی حملے کا کوئی نشان نہیں پایا گیا جاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنا بچاؤ کرنے کے قابل بھی نہیں تھے۔

ان کے جسم پر تیئیس زخم آئے جن میں سر پر آنے والا تین انچ کا گھاؤ بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ ان کے گال کی ہڈی اور پسلیاں بھی ٹوٹ گئی تھیں۔

یہ بھی الزام تھا کہ حملہ آوروں نے انہیں مارنے کے بعد ان کے پاس موجود اسی پاؤنڈ چھین لیے تھے اور گھڑی بھی اتار لی تھی۔

محمد پرویز کے قتل کے بعد 3ہزار ڈرائیوروں نے ہڑتال اور مطالبہ کیا کہ ٹیکسی ڈرائیوروں کو بہتر حفاظتی انتظامات مہیا کیے جائیں۔

یارک شائر پولیس کے وکیل سرکار کا کہنا ہے کہ اس ہلاکت سے سفید فام اور ایشیائی نوجوانوں کے درمیان پہلے سے موجود کشاکش میں مزید خرابی پیدا ہو گی اور نسل پرستی بڑھے گی اگرچہ محمد پرویز کا قتل محض نسل پرستی کا نتیجہ نہیں تھا۔

اسی بارے میں
برطانیہ اور نسل پرستی
20.05.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد