تیس لاکھ مسلمانوں کا اجتماع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے ایک مذہبی اجتماع میں تیس لاکھ افراد شرکت کر رہے ہیں جس میں دنیا بھر کے ساٹھ ملکوں میں رہنے والے مسلمان شرکت کریں گے۔ یہ مذہبی اجتماع دارالحکومت ڈھاکہ میں دریا کے کنارے ہوتا ہے اور تین دن تک جاری رہتا ہے۔ ہر سال مکہ میں حج کے بعد یہ مسلمانوں کو دوسرا بڑا اجتماع ہے جس میں وہ ن اجتماعی طور پر عبادت کرتے ہیں اور قرآن کا درس دیا جاتا ہے۔ یہ اجتماع اتوار کو اجتماعی دعا پر اختتام پذیر ہوگا۔ تین دنوں تک ڈھاکہ کے قریب دریائے تورگ کے کنارے خیموں کا شہر دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں سے آباد رہے گا۔ خیموں میں چند گھنٹے گزارنے کے بعد آپ کے کان ہزاروں گیس کے سٹوو (چولھوں) سے اٹھنے والے شور کے عادی ہو جائیں گے جن پر اجتماع میں شریک لاکھوں افراد کے لیے کھانے پکائے جاتے ہیں۔ اتوار کو اجتماعی دعا کے وقت پورے علاقے میں ہر کھلی جگہ اور چھت پر دعا کرتے ہوئے لوگ ہی نظر آئیں گے۔ اس سال اجتماع کے موقع پر سکیورٹی کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے اور دس ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ملک بنگلہ دیش میں اس موقع پر کسی قسم کی گڑبڑ کا کوئی خطرہ نہیں لیکن حال ہی میں بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے چند واقعات ہوچکے ہیں۔ اتوار کو اجتماعی دعا کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگ پیدل ہی ڈھاکہ کی طرف روانہ ہوں گے جو اجتماع کی جگہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ | اسی بارے میں ڈھاکہ میں ہڑتال اور پرتشدد مظاہرے07 January, 2007 | آس پاس ڈھاکہ: دوسرے روز بھی تشدد جاری رہا08 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش تباہی کی جانب گامزن؟09 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: عام انتخابات جلد متوقع22 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش کے انتخابات مؤخر30 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||