صدر احمدی نژاد پر دباؤ میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے بعد صدر احمدی نژاد پر ان کے اپنے ملک میں تنقیدی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ پچاس ارکانِ پارلیمنٹ نے ایک دستاویز پر دستخط کردیۓ ہیں کہ صدر احمدی نژاد پارلیمنٹ میں پیش ہوں اور سوالوں کے جواب دیں۔ لیکن اس پر عمل کے لۓ کم سے کم ستر ارکان کے دستخط ضروری ہیں۔ اگر کہیں یہ اقدام ہو جاتا ہے تو ایران میں اپنی نظیر آپ ہوگا۔ لیکن صدر کے مخالفین بھی تسلیم کررہے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا سکتا کیونکہ انہیں رہبر قوم آیت اللہ خمینائ کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم قابل ذکر بات ہے کہ کچھ سخت موقف والے اخبارات نے صدر پر تنقید شروع کردی ہے اور پوچھا جارہا ہے کہ زر مبادلہ کا اصراف کیوں کیا گیا اور جوہری معاملے پر جھگڑے والا انداز کلام کیوں اختیار کیا گیا۔ زشتہ مہینے انہوں نے یہودیوں پر نازیوں کے مظالم یعنی ہولو کاسٹ کی تردید میں جو کانفرنس کرائی تھی اس پر بھی اعتراض کیا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے ایران بین الاقوامی ہمدردی کھو بیٹھا۔ کوئی ڈیڑھ سو ارکان پارلیمنٹ نے ایک خط پر دستخط کئے ہیں کہ آئندہ بجٹ تیل کی قیمتوں کو پیش نظر رکھتے ہوۓ حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے۔ | اسی بارے میں احمدی نژاد کے لیے دھچکا 19 December, 2006 | آس پاس اسرائیل سے بدلے کی ایرانی دھمکی20 October, 2006 | آس پاس ایران:جوہری ادارے سے تعاون پرنظرثانی25 December, 2006 | آس پاس ایران کا ’بڑا جوہری منصوبہ‘15 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||