خامنائی: اتحاد و یگانت کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے رہبر ا علیٰ آیت اللہ خامنائی نے عراق میں شیعہ اور سنی معاملے پر عرب ملکوں کے درمیان بڑ ھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عراق میں اتحاد و یگانت کی اپیل کی ہے۔ آیت اللہ خامنائی کا کہنا تھا کہ کہ عراق میں عدم استحکام کے لیے ایران نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجینسیاں اپنے مذموم عزائم کی خاطر اختلافات کے بیج بو رہی ہیں۔ ایران میں سنی اور شیعہ دانشوروں سے گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ خامنائی نے کہا کہ عراق میں سب سے زیادہ غیر محفوظ علاقے وہ ہیں جو امریکی فوج کے کنڑول میں ہیں۔ صدر بش کے اس اعلان کے بعد کہ عراق کے معاملات کو بگاڑنے میں ایران کا ہاتھ ہے، ایرانی رہنما کا یہ پہلا رد عمل تھا جس میں انھوں نے اسلامی دنیا میں زیادہ یک جہتی پر زور دیا۔ انھوں نے برطانیہ پر الزام لگایا کہ اس خطے میں طویل عرصے رہنے کے باعث اسےً مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ ایران کوتشویش ہے کہ سنی ملکوں کو اس کے خلاف بھڑکایا جارہا ہے۔ | اسی بارے میں ’ایران، شام کے اندر گھسنےکا اردہ نہیں‘13 January, 2007 | آس پاس امریکہ سے ایرانیوں کی رہائی کا مطالبہ14 January, 2007 | آس پاس ایرانی قونصلیٹ پرامریکی حملہ11 January, 2007 | آس پاس ’عراق میں مداخلت سے باز رہیں‘14 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||