شدت پسند مالی طور پر خودمختار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق عراق کے شدت پسند گروپ اقتصادی طور پر کافی مضبوط بن گئے ہیں۔ اخبار کے مطابق اس خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند گروپ غیر قانونی طور پرسالانہ 70 سے 200 ملین ڈالر حاصل کرتے ہیں۔ یہ رقم عام طور پر تیل کی سمگلنگ اور لوگوں کو اغوا کر کے حاصل کی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سمگلنگ کے ذریعہ ایک سو ملین ڈالرتک حاصل کیئے حاتے ہیں جبکہ اغوا برائے تاوان سے شدت پسند گروپوں کو لگ بھگ 36 ملین ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔ شدت پسند گروپوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ بغداد کے مغرب میں امبرصوبے میں القاعدہ اور مقامی شدت پسند گروپوں کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے۔ امریکی فوج کاکہنا ہے کہ وہ ابو سودہ قبیلے کی حمایت میں القاعدہ کے خلاف فضائی حملے کر رہی ہے۔ خبروں کےمطابق القاعدہ اوراس شدت پسند گروپ کے درمیان لڑائی میں کئی لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ ابو سودہ گروپ عراقی حکومت کی حامی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے تازہ جھڑپوں میں کم از کم 45 شدت پسند اور نو قبائلی لڑاکے ہلاک ہو گئے ہیں۔ | اسی بارے میں مردوں کوگھروں سے نکال کرماراگیا 25 November, 2006 | آس پاس فرقہ وارانہ تشدد میں دو سو ہلاک23 November, 2006 | آس پاس بلیئر: ایران اور شام بات کی جائے13 November, 2006 | آس پاس امریکی فوجی، زنا اور قتل کا اعتراف16 November, 2006 | آس پاس عراق: خود کش حملہ: 22 ہلاک19 November, 2006 | آس پاس 132 ہلاکتیں، بغداد میں کرفیو23 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||