سعودی عرب کے گرد حفاظتی باڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب عراق کے ساتھ اپنی سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کے منصوبے پر عملدرآمد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ پرنس نائف بن عبدالعزیر نے کہا ہے کہ حفاظتی باڑ سے اسلامی شدت پسندوں اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد و رفت کو روکنے میں مدد ملے گی۔ عراق اور سعودی عرب کے درمیان نو سو کلو میٹر طویل سرحد ہے جس پر برقی شیلڈ لگانے سے شمال، مغربی اور جنوبی حصہ کو محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ بارہ ارب ڈالر کے اس منصوبے پر ’تھرمل کیمرے اور ریموٹ سینسر‘ کیمرے لگائے جائیں گے۔ سعودی حکام عراق کے ساتھ اپنی طویل سرحد کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تاکہ عراق میں پائی جانے والی بدامنی سعودی عرب تک نہ پھیل جائے۔ سعودی عرب کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ عراق میں جنگ خطے کے تمام ملکوں کو متاثر کر رہی ہے اور عراق کی سرحد کے ساتھ حفاظتی باڑ ناگزیر ہوچکی ہے۔ عراق کو خطے میں دہشت گردی کا گڑھ قرار دیتے ہوئے پرنس نائف نے کہا کہ عراق کی سرحد پر حفاظتی باڑ کے منصوبے پر اگلے سال کام شروع ہو جائے گا اور توقع ہے یہ باڑ چھ سال کے عرصے میں مکمل ہو جائے گی۔ سعودی عرب دنیا میں تیل پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک ہونے کے ناطے اور القاعدہ سے مستقل خطرے کی بنا پر عراق میں جاری جنگ کی وجہ سے شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ سعودی عرب کے حکام کو خدشہ ہے کہ اگر عراق شکست و ریخت کا شکار ہوتا ہے تو اس کا سعودی سلطنت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ سعودی حکام عراق کےساتھ حفاظتی باڑ کو القاعدہ کے جنگجوؤں ، منشیات اور اسلحہ کے اسمگلروں اور عراقی مہاجریں کے سعودی عرب میں داخلے کو روکنے کے لیئے ضروری سمجھتے ہیں۔ | اسی بارے میں نئے مشرق وسطی پر شکوک کا اظہار 29 July, 2006 | آس پاس سعودیہ: خفیہ مذاکرات کی تردید26 September, 2006 | آس پاس سعودی عرب: تبدیلی کی سست رفتار08 October, 2006 | آس پاس ’پورے خطے میں جنگ کا انتباہ‘ 26 July, 2006 | آس پاس 9/11: سعودی عرب میں تبدیلی کا آغاز11 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||