ڈونلڈ رمزفیلڈ کو مقدمات کاسامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کو خلیج گوانتانامو اور عراق میں کی جانے والے جنگی جرائم کے سلسلے میں جرمنی میں مقدمات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایک امریکی ادارے’ سنٹر فار کونسٹیٹیوشنل رائٹس‘ نے یہ مقدمہ جرمنی میں دائرکرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں کیوبا میں ایک سعودی شہری اور بغداد میں گیارہ عراقیوں کو حراست میں لینے کا معاملہ شامل ہے۔ جرمن قانون میں دنیا کے کسی خطے میں بھی ہونے والی زیادتیوں کی شکایت درج کی جا سکتی ہے اور ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اسی ادارے نے 2004 میں بھی یہ شکایت درج کرائی تھی مگر اس وقت اسے خارج کر دیا گیا تھا۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ گوانتانامو اور عراق کی ابوغریب جیل میں ہونے والی زیادتیوں کے محرک رمزفیلڈ تھے۔ وکیلوں کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ رمزفیلڈ نے ذاتی طور پر قیدیوں پر تشدد کی اجازت دی تا کہ ان سے معلوماتحاصل کی جا سکیں۔ رمزفیلڈ کے علاوہ امریکی اٹارنی جنرل البرٹوگونزالیز اورسی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جارج ٹینیٹ کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ وکیلوں کے اس گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ شکایت جرمن فیڈرل پراسیکیوٹر کے پاس منگل کے روز درج کرائی جائے گی۔ پراسیکیوٹرز کو پھر یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اسے خارج کر دیا جائے یا اس پر مقدمہ چلایا جائے۔ چوالیس سال تک مختلف سیاسی عہدوں پر کام وا لے ڈونلڈ رمز فیلڈ ڈیموکریٹ پارٹی کی انتخابی فتح کا پہلا نشانہ بنے۔ پینٹاگون نے ابھی تک اس سلسلے میں بیان جاری نہیں کیا۔ امریکہ اپنے دفاع میں یہ کہتا رہا ہے کہ اس نے کبھی بھی معلومات حاصل کرنے کے لیے تشدد کا سہارا نہیں لیا۔ ابوغریب میں ہونے والے تشدد کا پتا تب چلا تھا جب اس سے متعلق کچھ تصاویر منظر عام پر لائی گئیں۔ | اسی بارے میں رمزفیلڈ کی جگہ باب گیٹس08 November, 2006 | آس پاس ڈونلڈ رمزفیلڈ کون؟08 November, 2006 | آس پاس ’عراق میں امریکی کامیابی ممکن ہے‘25 October, 2006 | آس پاس طالبان کو شکست ہو گی: رمزفیلڈ11 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||