ایشیا ریل منصوبے پر دستخط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیا کے کئی ممالک کو جوڑنے والے ایک ریل منصوبے سے متعلق معاہدے پر پاکستان سمیت اٹھارہ ایشیائی ملکوں نے دستخط کر دیے ہیں۔ پاکستان کے چیرمین ریلویز شکیل درانی نے بتایا ہے کہ وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد اس اجلاس میں شریک ہیں اور پاکستان دستخط کرنے والوں میں شامل ہے۔ اس معاہدے پر دستخط جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں جاری وزارتی سطح پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ہوئے۔ ’آئرن سِلک روڈ‘ کہلانے والا یہ منصوبہ اقوام متحدہ کا تقریباً پچاس برس پہلے کا پیشکردہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریل سلسلہ سنگاپور سے ترکی تک جائے گا اور اس سے اندرون ایشیا کے علاوہ کئی ممالک سے یورپ کا بلواسطہ ریل رابطہ بھی قائم ہوگا۔ اقوام متحدہ کے اہلکار کِم ہاک سو کے مطابق یہ ریل ایشیا کے ممالک کے لیے ’مشترکہ خوشحالی‘ لائے گا۔ اجلاس میں موجود دس ممالک کے نمائندوں نے ابھی اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں لیکن انکا کہنا ہے کہ اس کی وجہ اختلافات نہیں بلکہ دیگر رسمی امور ہیں۔ ’انٹرگورمینٹل اگریمنٹ آن دا ٹرانس ایشین ریلوے نیٹورک‘ نامی معاہدے کا مقصد یہ ہے کہ تمام متعلقہ ممالک کی حکومتیں اس منصوبے کے ڈھانچے پر متفق ہو سکیں۔ آئرن سِلک روڈ پر اقوام متحدہ کی کمیشن کے مطابق یہ ریل سلسلہ ایشیا کے ان ممالک کو جوڑے گا جو بین الاقوامی لحاظ سے اہم ہیں۔ ان ممالک میں بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ یہ ریل وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق بعید کے ممالک سے گزرے گا۔ کمیشن کے مطابق اس ریل سے ایشیا کے ممالک کے درمیان ثقافتی اور تجارتی تعلقات دونوں مضبوط ہو سکیں گے۔ |
اسی بارے میں بھارت سے درآمد بڑھانے کا فیصلہ27 September, 2006 | پاکستان عالمی تجارت: انڈیا برازیل کی کاوش12 September, 2006 | انڈیا بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||