ایک ہاؤس میں ڈیموکریٹس آ گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوان نمائندگان پر سے صدر بش کی جماعت ریپبلیکن کا بارہ سالہ غلبہ ختم کر دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو تسلیم کر لیا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کی کامیابی سے امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان نمائندگان کی خاتون سپیکر بنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ایوان نمائندگان میں اپوزیشن لیڈر نینسی پالوسی پہلے خاتون سپیکر ہوں گی۔ امریکہ نظام حکومت میں ایوان نمائندگان کے سپیکر کا درجہ امریکی صدر اور نائب صدر کے بعد آتا ہے۔ انتخابات میں جیت کے بعد ڈیموکریٹ پارٹی کے رہمناؤں نے عراقی صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور کہا وہاں حالات کو بدلنے کے لیے حکمت عملی بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے سینٹ کےانتخابات میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ریپبلیکن پارٹی ک
امریکی شہری ایوانِ نمائندگان کے چار سو پینتیس اراکین اور ایوانِ بالا کے ایک تہائی یعنی سو میں سے تینتیس اراکین کا انتخاب کر رہے ہیں۔امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے چھتیس ریاستوں میں گورنر کے عہدے کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ آئندہ صدراتی انتخابات میں متوقع ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن دوبارہ سینٹر منتخب ہوگئی ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے سینٹ کی تین نشتوں کے علاوہ ریاست اوہاؤ میں گورنر کی نشت بھی حاصل کر لی ہے۔ ریپبلیکن پارٹی کے آرنلڈ شیوزنیگر دوبارہ کیلفورنیا کے گورنر منختب ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ریاست پینسلوینیا میں ڈیموکریٹ امیدوار بوب کیسی نے ریپبلیکن امیدوار کو ہرا کر سینٹ کی اہم نشت جیت لی ہے۔ سابق ڈیموکریٹ سینٹر جوزف لبرمین نے آزاد امیدوار کی حثیت سے سینٹ کی نشت جیت لی ہے۔جوزف لبرمین کا شمار عراق جنگ کے شدید حمایتوں میں ہوتا ہے اور وہ امریکی صدر جارج بش کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں جوزف لبرمین
الیکشن حکام نے کہا ہے چھ ریاستوں کے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی وجہ پولنگ روکنا پڑی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ووٹنگ کے وقت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ریاست ورجنیا میں ایف بی آئی نےالیکشن حکام کی شکایت پر کچھ لوگوں کو فون پر دھمکیاں دینے اور الیکٹرانک مشینوں کے خراب ہونے کی تحقیق شروع کر دی ہے۔ امریکی ووٹر کی ایک بڑی تعداد نےاپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔امریکہ میں بیس کروڑ شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔مبصرین کا خیال ہے کہ ووٹروں کا ٹرن آؤٹ چالیس فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
ان انتخابات میں عراق میں جنگ سب سے اہم موضوع رہا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ عراق موجودہ صورتحال صدر بش کی ٹیم کی نااہلی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
ریپبلیکن پارٹی کا کہنا ہے کہ سخت حفاظتی اقدامات کی وجہ گیارہ ستمبر 2001 کے بعد امریکی سر زمین پر دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں ہو سکی ہے۔ امریکی صدر جارج بش ریپبلیکن نے اور سابق صدر بل کلنٹن ڈیموکریٹ امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔ ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اپنا پلڑا بھاری کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں مزید پندرہ جبکہ سینٹ میں مزید چھ نشستیں جیتنا ضروری ہے۔ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے چھتیس ریاستوں میں گورنر کے عہدے کے لیے بھی مقابلہ ہو رہا ہے۔ | اسی بارے میں ریپبلکن پارٹی کے انتخابی اجلاس میں ۔۔۔30 October, 2006 | آس پاس اوہائیو: امریکہ کی انتخابی نبض03 November, 2006 | آس پاس کانگریس انتخاب اور مسلمان امیدوار28 October, 2006 | آس پاس وسط مدتی انتخابات اور دو امریکی ووٹر05 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||