ہم جنسیت کے الزام پر مبلغ مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک ممتاز عیسائی مبلغ ریورینڈ ٹیڈ ہیگرڈ نے اس الزام کے بعد کہ ان کے پچھلے تین برس سے ایک مرد جسم فروش سے جنسی تعلقات تھے، استعفی دے دیا ہے۔ ریورینڈ ٹیڈ ہیگرڈ نے یہ بھی کہا کہ جب تک ان کے رفقاء ان پر لگائے گئے الزام کی تفتیش کرتے ہیں وہ چودہ ہزار مقلدوں پر مشتمل ’نیو لائف چرچ‘ کی رہنمائی سے بھی الگ رہے ہیں۔ مبلغ مسٹر ہیگرڈ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے سخت خلاف ہیں اور انہوں نے خود پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے۔ ان پر ہم جنس پرستی کا الزام ریاست کولاراڈو میں ایک ریڈیو پروگرام کے دوران ایک شخص نے لگایا تھا۔ مسٹر ہیگرڈ نے کہا کہ وہ اس وقت تک کے لیے نیشنل ایسوسی ایشن آف ایونجیلیکلز کی صدارت سے مستعفی ہورہے ہیں جب تک اس مسئلے کا تصفیہ نہیں ہوجاتا۔ ایک ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے مسٹر ہیگرڈ نے کہا کہ ان کے کبھی بھی کسی مرد سے جنسی تعلقات نہیں رہے۔ ’میں اپنے بیوی کے ساتھ وفادار ہوں اور یہ رشتہ قائم ہے۔‘ مسٹر ہیگرڈ، جن کے پانچ بچے ہیں، دو ہزار تین میں ایسوسی ایشن کے صدر بنائے گئے تھے۔
مسٹر ہیگرڈ کے بارے میں تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب مائیک جونز نامی شخص نے کہا کہ اسے گزشتہ تین برس سے ہر ماہ مبلغ کے ساتھ ہم بستری کا معاوضہ ملتا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اگلے ہفتہ کانگریس کے انتخابات کے دوران امریکہ کی کئی ریاستوں میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت دینے کے قانون پر بھی ووٹ ڈالے جائیں گے- جنسی تعلقات کا دعوی کرنے والے انچاس سالہ مائیک جونز نے کہا کہ انہوں نے مسٹر ہیگرڈ کے ساتھ اپنے تعلقات کی تفصیل منظر عام پر لانے کا فیصلہ اس وقت کیا جب انہوں نے انہیں عوامی سطح پر ہم جنسوں کی شادی کے خلاف بولتے سنا۔ ’مجھے یہ سن کر غصہ آیا کہ ایک ایسا شخص ہم جنس افراد کی شادی کے خلاف تبلیغ کر رہا جو پردے کے پیچھے خود ہم جنس تعقات رکھتا ہے۔‘ | اسی بارے میں امریکی مبلغوں کو الٹی میٹم12 February, 2006 | آس پاس ہم جنسوں کی شادی، ترمیم ناکام07 June, 2006 | آس پاس ہم جنس پرستی، ایڈز اور قانون29 September, 2006 | انڈیا پاک و ہند کے ہم جنس پرست آزاد ہوئے 26 June, 2006 | آس پاس ہم جنسیت پر پابندی برقرار29 November, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||