BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 October, 2006, 07:29 GMT 12:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: پاکستانی ڈرائیور ہلاک

 (فائل فوٹو)
گزشتہ ہفتے ایک شخص کو لاس ایجنلس میں بیس بال کے ڈنڈے سے ہلاک کیا گیا تھا (فائل فوٹو)
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کی ہلاکت کونسلی منافرت کی کارروائی کا نام دیا جا رہا ہے۔

ایک ہفتے کے دوران جنوب اور مغربی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی نسلی منافرت کے نتیجے میں ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چالیس سالہ مقتول ڈرائیور مشرف بھٹی کے بھائی نے بتایا کہ ان کے بھائی کو کچھ مسلح افراد نے اس وقت ہلاک کیا جو وہ اپنی ملازمت سے چھٹی کے بعد نجی ٹرک میں بیٹھ کر کیلیفورنیا کے علاقے رچمنڈ کی طرف آ رہے تھے۔ مشرف کا تعلق پاکستان کے علاقے میاں چنوں سے ہے۔ مسلح افراد نے ان کے ٹرک کی ونڈ سکرین پر گولیاں ماریں۔

اس واقعے کے بعد کسی کی باقاعدہ گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم پولیس نے ایک شخص کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا ہے۔

متقول ڈرائیور کے بھائی کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ان کے بھائی کے قتل کے پیچھے کیا محرکات تھے تاہم جنوب ایشیائی خاص کر پاکستانی اس ہلاکت کے پیچھے نسلی منافرت کے شبہے کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے قبل بھی ایک شخص کو نسلی منافرت کی بنیاد پر اسی علاقے میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔ دونوں واقعات میں تاحال کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اس سے قبل چھ بچوں کی ماں اور ایک باپردہ خاتون عالیہ انصاری کو فری مونٹ کےعلاقے میں گولی مار کر اس وقت ہلاک کیا گیا تھا جب وہ اپنے بچوں کو سکول سے لے کر گھر کی طرف آ رہیں تھیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص روہن رام بوکیولا کو لاس اینجلس میں بیس بال کے ڈنڈے سے ہلاک کیا گیا تھا۔

مشرف بھٹی رچمنڈ کے علاقے میں گزشتہ بیس سال سے رہ رہے تھے۔ بی وے علاقے میں پاکستانی کمیونٹی کے ایک رکن سید اعجاز کا کہنا تھا کہ انہیں اس ہلاکت سے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔

آسیہ انصاری اور مشرف بھٹی کی ہلاکت سے اس علاقے میں آباد جنوب ایشیائی کمیونٹی گہرے صدمے کا شکار ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ نسلی منافرت کو ان ہلاکتوں کی وجہ بیان کرنا درست نہیں ہے۔

متقول ڈرائیور کے بھائی کے بقول پولیس نے انہیں بتایا تھا کہ ایک شخص نے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، پولیس کو ٹیلی فون کرکے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ مشرف بھٹی کے قتل کے بارے میں کچھ جانتا ہے۔

اسی بارے میں
امریکہ کے چار سو ارب پتی
22 September, 2006 | آس پاس
شام کو امریکہ کا شکریہ
12 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد