صدر بش آج اپنا دفاع کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران متوقع طور پر مشرق وسطی کے بارے میں اپنی متنازعہ پالیسی کا دفاع کریں گے۔ صدر بش کا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں موجود عالمی سربراہوں سے خطاب کوفی عنان کے اس بیان کے بعد ہو رہا ہے جس میں انہوں نے عراق کی صورت حال کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ عراق خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ جنرل اسمبلی کے بعد سے شروع ہونے والے اجلاس میں ایران، فرانس، جنوبی افریقہ اور پاکستان کے سربراہان حکومت یا سربراہان مملکت خطاب کریں گے۔ سوڈان کے مغربی حصے دارفور میں جاری بحران بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بحث کا محور رہے گا۔
بی بی سی کے نمائندے جانتھن مارکس کے مطابق اقوام متحدہ کی موجود عالمی حالات میں افادیت اور ضرورت کے بارے میں اٹھنے والے سوال بھی اس اجلاس میں گہرے سائے مرتب کر رہے ہیں۔ سکیورٹی کونسل نے شہریوں کی حفاظت کے لیئے دارفور میں اقوام متحدہ امن فوج کی تعیناتی کی بھرپور تائید کی ہے لیکن سوڈانی حکومت ابھی تک انہیں درافور میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے گریزاں ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ بھی بحث کے دوران اہم موضوع رہے گا۔ امریکہ اور یورپی برادری کی کوششوں کے باوجود سکیورٹی کونسل میں ایران پر پابندیاں عائد کیئے جانے کے بارے میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ ایران عالمی دباؤ کے باوجود اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ روس اور چین شروع ہی سے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کیئے جانے کے حق میں نہیں تھے۔ تاہم فرانس کے موقف میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے سوموار کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کیئے جانے کو یورینیم کی افزودگی بند کرنے سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران صدر بش اور صدر شیراک کے درمیان ملاقات بھی متوقع ہے جس میں وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنے اختلافات پر بات چیت کریں گے۔ امریکی اخبارات میں خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ وائٹ ہاؤس کے حکام اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران صدر بش اور صدر محمود احمدی نژاد کا آمنا سامنا نہ ہو۔ سن دوہزار دو میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس وقت کے امریکی صدر کو اس وقت انتہائی ناخشگوار صورت حال سے دوچار ہونا پڑا تھا جب ایک پرہجوم ہال میں ان کا سامنا کیوبا کے صدر فیدرل کاستور سے ہو گیا تھا اور ان سے مصافحہ کرنا پڑا تھا۔ ایرانی صدر محمود احمد نژاد عالمی امور پر امریکی صدر کو مناظرے کا چیلنچ دے چکے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق میں عالمی صورت حال میں جہاں اسرائیل ابھی لبنان جنگ کے بعد اپنے زخم چاٹ رہا ہے، فلسطینی قومی حکومت بنانے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں اور امریکہ کا اہم بین الاقوامی امور پر بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ اختلافِ رائے بڑھتا جا رہا ہے جنرل اسمبلی میں کسی مثبت پیش رفت کا بہت کم امکان پایا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں جنرل اسمبلی کا اجلاس آج سے شروع19 September, 2006 | آس پاس ’حالات نہ بدلے تو عراق ٹوٹ جائے گا‘19 September, 2006 | آس پاس مشرف من موہن ملاقات آج ہوگی16 September, 2006 | آس پاس ملاقات ’نیک شگون‘ ہے: مشرف17 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||