جنرل اسمبلی کا اجلاس آج سے شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اکسٹھواں سربراہی اجلاس منگل سے شروع ہو رہا ہے۔ دنیا بھر سے رہنما یہاں پہنچ گئے ہیں۔ ایسے میں نیویارک میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ سالانہ تقاریر کا آغاز آج برازیل سے ہوگا۔ اس کے بعد امریکی صدر جارج بش خطاب کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور جمہوریت کے فروغ کے لیئے اپنی پالیسوں کے حق میں دلائل دنیا کے سامنے رکھیں گے۔ اس ضمن میں عراق، ایران، مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان کے حالات کا خاص طور پر ذکر کریں گے۔ جنوبی افریقہ اور فن لینڈ کے بعد پانچویں نمبر پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی باری آئے گی۔ توقع ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں دنیا پر زور دیں گے کہ اس مسئلے کی اصل وجوہات دور کرنے پرتوجہ دی جائے۔ صدر پرویز مشرف کی تقریر میں پاک۔بھارت بات چیت پر پیش رفت اور کشمیر کا لازمی ذکر شامل ہوگا۔ بھارتی وزیرِاعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ برازیل اور کیوبا کا دورے کے بعد واپس دہلی پہنچ گئے ہیں۔ ان کی جگہ یہاں اس بار بھارت کی نمائندگی وزیرِ دفاع پرناب مُکھرجی کریں گے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی قیادت میں یہ جنرل اسمبلی کا ان کا آخری اجلاس ہوگا۔ اس موقع پر کوفی عنان نے خبردار کیا ہے عراق اس وقت خانہ جنگی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ عراق کو ٹوٹنے سےبچانے کے لیئے اسے عراقی رہنماؤں کے ساتھ مل کر فوری اقدام کرنے ہوں گے۔ کوفی عنان اس سال کے آخر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان کی جگہ لینے کے لیئے بھارت سمیت کئی ایشیائی ممالک کی طرف سے کوششیں جاری ہیں۔ دنیا کے اس اعلیٰ ترین سفارتی عہدے کا حتمی انتخاب اگلے دو ماہ میں متوقع ہے۔ | اسی بارے میں اقوام متحدہ: بولٹن سفیر مقرر01 August, 2005 | آس پاس اقوام متحدہ کے ماہرین عراق میں08 February, 2004 | آس پاس اقوام متحدہ نے اثاثے منجمد کر دیئے12 September, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||