اقوام متحدہ کے ماہرین عراق میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخابات کے بارے میں اقوام متحدہ کے ماہرین کا ایک خصوصی دستہ عراق پہنچ گیا ہے تاکہ ملک کا اقتدار عراقی عوام کے حوالے کرنے میں درپیش تعطل توڑنے کا راستہ تلاش کیا جاسکے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے عراق میں انتخابات کا انعقاد آئندہ ماہ جون میں طے کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا یہ خصوصی دستہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ آخر کس طرح آئندہ ماہ جون میں عراق میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکے۔ عراق کی شیعہ اکثریت کے رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے علاقائی رہنماؤں کے اجلاس کے ذریعے ملک میں کسی غیر منتخب عبوری حکومت کے قیام کا امریکی منصوبہ مسترد کرتے ہوئے براہ راست انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ خصوصی دستہ، انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں عراق میں امریکی قیادت میں قائم عبوری انتظامیہ کے ارکان اور عراقی رہنماؤں سے مذاکرات کرے گا۔ یہ گزشتہ برس اگست میں عراقی دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر پر ہونے والے اس بم دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے عراق میں پہلی کارروائی ہے، جس میں اقوام متحدہ کے عراق میں مشن کے سربراہ سرجیو ڈی میلو سمیت بیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||