’اقوام متحدہ کی پیشکش قبول‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل اور حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کے حل میں مدد کی پیشکش قبول کرلی ہے۔ جدہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’فریقین نے اس مسئلے کے حل کے لیئے سیکرٹری جنرل کی مدد قبول کر لی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ ثالث کا نام نہیں بتائیں گے۔ حزب اللہ نے اُن دو اسرائیلی فوجیوں کو جولائی میں پکڑا تھا جس کے بعد اسرائیل نےلبنان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی تھی۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کی تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل نے اپنا موقف دہرایا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی غیر مشروط رہائی چاہتا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اس مقصد میں مدد کرے گا نہ کہ ثالثی۔ یروشلم میں بی بی سی کی نامہ نگار جِل مگورنگ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیئے سیاسی طور پر یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ اقوام متحدہ اس کے اور حزب اللہ کے درمیان مذاکرات کروا رہا ہے۔ اسرائیل حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم مانتا ہے اور اور اس کا موقف ہے کہ وہ اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ کوفی عنان نے کہا ہے کہ وہ مسئلے کے حل کے لیئے تعینات کیے جانے والے خصوصی ثالث اور مذاکرات کی تفصیل راز رکھنا چاہتے ہیں۔ کوفی عنان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے نہ صرف رضا مندی ظاہر کی ہے بلکہ انہیں رابطے کے لیئے جگہ بھی بتائی ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے مسئلے پر کوفی عنان کا بیان ان کے موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ خبر رساں ادارے رائٹر نے ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ثالث کی ضرورت نہیں ہے۔ ’سلامتی کونسل کی قرار داد ہے کہ فوجیوں کو غیر مشروط رہا کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مدد کریں گے نہ کہ ثالثی‘۔ | اسی بارے میں کوفی عنان کاتباہ شدہ لبنان کا دورہ29 August, 2006 | آس پاس اسرائیل ناکہ بندی ختم کرے: عنان30 August, 2006 | آس پاس لبنان: ’50 ملین ڈالر کی امداد درکار‘ 31 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ خلاف ورزی ہے:عنان19 August, 2006 | آس پاس کوفی عنان تہران پہنچ رہے ہیں02 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||