’غزہ کی صورتحال ایک ٹائم بم ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کی بحالی کے لیئے امدادی کانفرنس کے بعد اب فلسطینیوں کے لیئے عالمی امدادی اداروں کا اجلاس سویڈن کے شہر سٹاکہوم میں منعقد ہوا ہے۔ اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کی بحالی کے لیئے تینتیس کروڑ تیس لاکھ ڈالر کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے اہلکار جان اینگلینڈ نے امدادی اداروں سے کہا ہے کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اس پر فوری توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے غزہ کے حالات کو ایک ’ٹائم بم‘ قرار دیا ہے اور کہا کہ چودہ لاکھ لوگوں کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ ایک پنجرے میں قید ہیں، سرحدیں بند ہیں، ان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ بجلی کم ہے، پانی نا کافی ہے۔ ہمیں مزید امداد کی ضرورت ہے اور اس جنگ کے لیئے ایک سیاسی حل کا بھی۔‘ لبنان کے لیئے امداد سے متعلق کانفرنس جمعرات کو سٹاکہوم میں ختم ہوئی۔ اس کانفرنس میں پچاس کروڑ ڈالر کی اپیل کی گئی تھی اور امدادی حلقوں نے اس سے کہیں زیادہ رقم یعنی چورانے کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔ امکان ہے کہ اس کانفرنس میں شریک تقریباًً پچاس تنظیمیں سٹاکہوم میں فلسطینی امداد کی کانفرنس کے لیئے رک رہی ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین نے فلسطینی انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد اپنی امداد روک دی تھی۔ سرکاری ملامزین کو کئی مہینوں تک تنحواہیں نہیں ملیں فلسطینی علاقوں میں یہ مالی بحران جاری ہے۔ فلسطینی علاقوں میں صورتحال کو سویڈن کے وزیر خارجہ نے تشویشناک قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں 80 فیصد افراد غربت میں رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے جان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے پچیس سال سے فلسطینی علاقوں میں جا رہے ہیں لیکن ان کے پچھلے دورے میں انہوں نے فلسطینیوں میں اتنا غصہ اور نفرت پایا جس کی پہلی مثال نہیں۔ | اسی بارے میں فلسطینی علاقوں میں پیٹرول ختم؟11 May, 2006 | آس پاس فلسطین: یورپ نےامداد روک دی07 April, 2006 | آس پاس فلسطینیوں کے لیے عبوری امداد10 May, 2006 | آس پاس اسرائیل نے کلسٹر بم استعمال کیئے31 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||