اقوام متحدہ: نئی قرارداد پر کام شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلی قرارداد پر عرب لیگ کے اعتراضات کے بعد فرانسیسی اور امریکی سفارتکاروں نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے حل کے لیئے ایک نئے مسودے پر کام شروع کر دیا ہے۔ منگل کے روز عرب لیگ کے وفد نے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ موجودہ قرارداد سے مشرق وسطیٰ کا بحران حل نہیں ہو سکے گا۔ عرب لیگ کے نمائندوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے انخلاء کو قرارداد کا حصہ بنائے۔اسی ہفتے فرانس اور امریکہ نے اتفاق رائے سے ایک قرارداد کا مسودہ تیار کیا تھا جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کے خاتمے کا مطالبہ تو شامل تھا لیکن جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ لبنان نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس قرارداد پر عمل درآمد ہو گیا تو لبنان اسرائیل کے رحم و کرم پر ہوگا اور وہ جب چاہے گا اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر سکے گا۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ نئی قرارداد میں لبنان کی حکومت کی پوزیشن کو مضبوط کیا جائے گا اور اس کو آئندہ چند روز تک رائے شماری کے لیئے سلامتی کونسل کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ سابق پاکستانی سفارتکار احمد کمال نے قرارداد کے مسودے میں ترمیم پر امریکہ اور فرانس کی آمادگی کو عرب لیگ کے لیئے ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں سلامتی کونسل کے سامنے موجود قرارداد کی پوری شکل ہی بدل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں عرب لیگ کے وفد کی شرکت کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پہلی قرارداد پر دستخط کرنے کے باوجود فرانس نے اپنی پوزیشن بدل لی اور موجودہ شکل میں قرارداد کی حمایت کرنے والوں میں امریکی اکیلا رہ گیا۔ اس سے پہلے عرب لیگ کے نمائندہ وفد نے سلامتی کونسل سے کہا کہ امریکہ اور فرانس کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی سے متعلق قرارداد کا مسودہ لبنان اور خطے میں امن قائم کرنے کے بجائے مزید تشدد کو جنم دے گا۔ عرب لیگ کے وفد نے سلامتی کونسل میں زیر غور قرارداد میں لبنان میں ہونیوالی عرب لیگ کی پیر کو ہونیوالی کانفرنس میں منظور کی ہوئی سات نکاتی قرارداد کی شقیں شامل کرنے کو کہا ہے۔ ’ہم نے اس وقت بھی فوراً جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا جب چھ سو سے زائد لوگ لبنان میں ہلا ک ہوگئے۔ ہم نے اسوقت بھی فوری جنگ بندی چاہی تھی جب ہمارے تین ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوئے اور اسوقت بھی جب ہمارے دس لاکھ سےبھی زائد لوگ اسکولوں کے فرش اور سڑکوں پر سورہے ہیں اور ہم نے قانا کے قتل عام کے ہیولوں میں کھڑے ہوکر بھی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔ جس میں بڑی دیر ہوگئی ہے‘، یہ الفاظ تھے لبنان کے قائم مقام وزیر خارجہ طارق مطری کے تھے جو انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہے۔
سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی موجودگي میں سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں عرب لیگ کے نمائندوں کے جواب میں اسرائیلی نمائندے ڈان گلرمین نے کہا کہ وہ لبنانی نمائندے کے ذریعے لبنانی عوام کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسرائیل بھی جنگ بندی کی خواہش رکھتا ہے۔ عرب لیگ کے نمائندوں نے اسرائیل کی ایسی خواہش کو مسترد کرتے ہوئے کہ وہ صرف اقوام متحدہ کے ذریعے ہی امن چاہتے ہیں۔ اسرائیلی نمائندے کے جواب میں قطر کے وزیر خارجہ حماد بن جاسم الثانی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین تو حزب اللہ سے پہلے وجود رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دھشتگردی تو بعد میں ہوئی جب انہوں نے دیکھا کہ انکی حکومتیں اسرائیل سے اقرام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کروانے میں ناکام گئي ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی نمائندے ڈان گلرمین نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسرائیل کا لبنان کے عوام کیخلاف کوئی تنازعہ نہیں۔ لبنان اور اسرائیل تو آپس میں تاریخ اور روایات ایک سی رکھتے ہیں۔ ہمارے جھنڈے پر ستارہ داؤد اور انکے جھنڈے پر سیڈر ( صنوبر) کا درخت ہے جو بائیبلی کہانیوں کے مطابق طائر شہر سے بادشاہ سلیمان نے اسرائیلی مقدس شہر میں اگایا تھا۔ اب طائر کا شہر دہشتگردوں کا گڑہ ہے جنہوں نےتمام لبنانی عوام کو اپنے فوجی اہداف کو چھپانے کیلیے ڈھال بنایا ہوا ہے کیونکہ انکے سرستوں ایران اور شام نے انہیں یہی بتایا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم تقریر کی دوران اپنے ابرو کی حرکات سے ایران اور شام کے نمائندوں کیطرف اشارے کیے۔ انہوں نے کہا کہ حیفہ سمیت کئی شہروں پر حزب اللہ نے پینتیس سو راکٹ داغے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ راکٹ اور حزب اللہ نے اسلحہ طائر سمیت شہری آبادیوں میں چھپایا ہوا ہے۔ اسرائیل تو اپنے دفاع میں کارروائیوں سے پہلے شہری آبادیوں پر پرچیاں گراکر انہیں علاقے سے نکل جانے کا کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کیساتھ اسرائیل امن چاہتا ہے اور اسکی خواہش ہے لبنانی اور اسرائیلی بچے بغیربموں کےحملوں کے اپنے اسکولوں کو جاسکیں۔ متحد عرب امارات کے عبد اللہ بن زیاد النہیان اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل امر موسیٰ کی قیادت میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنیوالے وفد کی ترجمانی کرتے ہوۓ قطر کے وزیر خارجہ حماد بن جاسم اور لبنان کے قائم مقام وزیر خارجہ نے لبنان سے اسرائیل فوجوں کے مکمل انخلا، قلسطین کے سوال پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کروانے، لبنان میں بلیو ایریا اور لیتانی ندی کے درمیاں اقوام متحدہ کے امن فوج کی تعیناتی، اور باقی لبنانی علاقوں میں باقی پندرہ ہزار فوجوں کی تعیناتی کے مطالبات سلامتی کونسل کے مجوزہ قرداد میں شامل کرنے کو امن کےلیئے اعلی ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان شقوں کے شامل کیے بغیر خطے میں تشدد اور خانہ جنگی پھر سے بھڑک اٹھیں گے۔ اسرائیلی نمائندے اور عرب لیگ کے نمائندوں کے درمیان بیانات کا تبادلہ بھی ہوا۔ اسرائیلی نمائندے نے لبنانی قائم مقام وزیر خارجہ سے کہا کہ انکے اور لبنان کے درمیاں خون خرابے روکنے کے آڑے صرف ایک لفظ ہے اور وہ ہے ’حزب اللہ‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں و الفاظ نہیں کہنا چاہتے جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر کے شروع میں کہا کہ امن و سلامتی الفاظ اور قرادادوں کے ذریعے نہیں بلکہ عمل کے ذریعے ممکن ہے۔ قطر کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم لبنان اور خطے میں امن اقوام متحدہ کے ذریعے سے چاہتے ہیں نہ کہ اسرائیلی جیل خانوں کے ذریعے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||