حسن مجتبٰی سان ڈیاگو، کیلیفورنیا |  |
 | | | قراردار کے مسودے پر مزید غور کرنے کیلیے اجلاس منگل پر متوقع ہے |
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اور فرانس کی طرف سے پیش کی جانیوالی قراردار کے مسودے پر مزید غور کرنے کیلیے اجلاس منگل پر متوقع ہے جبکہ قرارداد پر ووٹنگ بدہ کو ہو سکتی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ میں سفارتی ذرائع نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے سلامتی کونسل کا پیر کو امریکہ اور فرانس کی طرف سے پیش کرنے والی قرارداد کے مسودے پر غور کے لیئے اجلاس منگل تک کےلیئے ملتوی کردیا گیا ہے کیونکہ کونسل بیروت سے نیویارک سفر کرکے آنیوالے عرب لیگ کے وفد کے قرارداد پر اعتراضات سننا چاہتی ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ اور فرانس کی قرارداد پر کائونسل میں بحث کے دوران واحد عرب ملک قطر کے نمائندے ناصر عبدالعزیز نصر نے قراداد کے مسودے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کو برابری سے دیکھا جاۓ۔ انہوں نے کہا کہ قراداد میں ہم لبنان سے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کا تو کہتے ہیں لیکن ان لبنانی قیدیوں کا کیا ہوگا جو اسرائیل کی قید میں ہیں۔ ’ہمیں ہر ایک فریق سے ایک طرح کا سلوک کرنا چاہیے نہ کہ ایک فریق کو دوسرے کے اوپر پھینکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لبنان میں امن و سلامتی چاہتے ہیں نہ کہ لبنان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں لبنان میں خانہ جنگی کی صورتحال بھی پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ سلامتی کائونسل میں مبصر کے طور پر شریک عرب لیگ کے نمائندے یحی محمسانی نے کہا کہ بلیو لائين اور شیبا فارم سے اسرائیلی افواج کا انخلاء اور ان علاقوں کو اقوام متحدہ کنٹرول میں دینا قراداد کی اولین ترجیحات میں ہونا چاہیے۔ یحی محمسانی کے اس موقف کو اقوام متحدہ میں امریکہ کے مسقبل نمائندے جان بولٹن نے مسترد کرتے ہوۓ کہ کہ اس سے فقط حزب اللہ کو اپنی علاقے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا جواز بہانہ ملے گا۔ اجلاس کے بعد جان بولٹن کی پریس بریفنگ میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ سے بات کریں گے تو انہوں نے کہا دہشتگرد تنظیموں کے سربراہوں سے بات چیت کرنے کے صفر امکانات ہیں۔ تاہم جان بولٹن نے کہ امریکہ جلد از جلد لبنان میں بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی چاہتا ہے۔ ذرائع اقوام متحدہ میں عرب لیگ کے اعتراضات کے بعد امریکی فرانسیسی قرارداد کے مسودے میں ردوبدل کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے ہوۓ اس پر متوقع طور آئندہ سنیچر تک عمل کا اعلان بتارہے ہیں۔ |