برطانیہ: نئی بارڈر فورس کا قیام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر داخلہ جان ریڈ ملک کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر ایک باوردی فورس کے قیام کا اعلان کرنے والے ہیں۔ برطانیہ میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی فورس ہو گی۔ ہوم آفس نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا ہے کہ سنہ دو ہزار بیس تک برطانیہ میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کرانے کے لیے خرچ کی جانے والی رقم کو دوگنا یعنی اٹھائیس ملین پونڈ کر دیا جائے گا۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں جان ریڈ نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانے کے لیے زیادہ بااختیار اور مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ وزارت داخلہ کے ان نئے منصوبوں کی تفصیلات اس وقت سامنے آئیں ہیں جب دارالعلوم کی ایک کمیٹی نے موجودہ امیگریشن قوانین کے اطلاق کو ناکافی قرار دیا ہے۔ ہوم آفس سلیکٹ کمیٹی نے نہ صرف انفرادی امیگریشن مقدموں میں فیصلوں کے معیار کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ یہ بھی کہا کہ محکمہ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے میں نا اہلی کا مظاہرے کر رہا ہے۔ اتوار کو نشر کیے جانے والے انٹرویو میں جان ریڈ نے کہا کہ برطانیہ میں سیاسی پناہ لینے کے خواہش مند افراد میں بہتًر فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ کہ پہلے برطانیہ میں پناہ لینے کی درخواست کو نمٹانے میں بائیس ہفتے لگتے تھے لیکن اب یا کام آٹھ ہفتوں میں ہو جاتا ہے۔ ’ ہم آج کل ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو واپس اپنے ملکوں کو بھیج رہے ہیں جن کی پناہ کی درخواستیں رد ہو جاتی ہیں۔ تاہم ہمیں اس سلسے میں زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے میں اگلے ہفتے سرحدوں پر وسائل میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو ایک زیادہ فعال، با اختیار اور بہتر بارڈر فورس کی ضرورت ہے۔ مـجوزہ بارڈر فورس کے بارے میں باقاعدہ اعلان اگلے منگل کو متوقع ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ: تارکین وطن کا بائیکاٹ ڈے 01 May, 2006 | آس پاس غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری21 April, 2006 | آس پاس غیر قانونی تارکینِ وطن پر شکنجہ کسنے کی تیاریاں17 December, 2005 | آس پاس عراقی تارکین وطن کی ووٹنگ شروع14 December, 2005 | آس پاس ’فرانس میں تارکین وطن کا لحاظ کریں‘03 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||