سری لنکا: تین پولیس اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں تشدد کی کارروائیاں جاری ہیں اور اتوار کو باروری سرنگ کے ایک دھماکےمیں تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ جنگ بندی کے معاہدے کے چار سال مکمل ہونے پر حکومت اور تمل باغیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں پچھلے چار دنوں میں ایک سو کے قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری تمل ٹائیگرز پر ہے جنہوں نے بارودی سرنگ بچھائی تھی۔ تمل ٹائیگر نے فوری طور پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ تشدد کی کارروائیوں میں کمی نہیں ہو رہی ہے۔سری لنکا میں چار سال پہلے تمل باغیوں اور حکومت کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا جس کی حیثیت اب کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے۔ حکومت اور تمل باغی ایک دوسرے کو تشدد شروع کرنے کا موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ ایک روز پہلے بس حملے میں ساٹھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ تمل ٹائیگر نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ بس بم حملہ تمل ٹائیگر ہی کی کارروائی تھی۔ پچھلے چار دنوں سے باغیوں نے کشتیوں میں سوار ہو کر پولیس اور بحریہ پر حملے کیئے ہیں جبکہ حکومتی بحریہ نے توپخانے اور فضائیہ کی مدد سے جوابی کارروائی کی۔ | اسی بارے میں حکومت اور باغیوں میں مذاکرات 08 June, 2006 | آس پاس درجنوں مسافر ہلاک، فضائی حملے15 June, 2006 | آس پاس سری لنکا: بس دھماکہ، 58 ہلاک15 June, 2006 | آس پاس ’باغیوں نے بارہ مزدور مار دیئے‘30 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||