BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 June, 2006, 10:18 GMT 15:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دنیا وعدے پورے کرے‘

امریکی صدر بش اور عراقی وزیر اعظم نور المالکی
صدر بش نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا-
امریکہ کے صدر بش نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ عراق کی اقتصادی، فنی و طبی امداد کے کیئے ہوئے وعدے پورے کرے-

صدر بش نے امریکی عوام سے اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں کہا کہ وہ عراقی عوام سے اس عہد کی تجدید کے لیئے عراق گئے تھے کہ امریکہ ’آزاد عراق‘ کی تعمیر و ترقی میں ہمہ تن ساتھ ہے۔

امریکی صدر کی اس ریکارڈ شدہ ریڈیو تقریر کو اتوار کی علی الصبح امریکی الیکٹرانک میڈیا پر نشر کیا گیا-

’امریکہ عراق کےساتھ مشترکہ مقاصد کےلیے شانہ بشانہ جدوجہد کرتا رہے گا جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کے قلب میں ایک مکمل جہموری اور آزاد عراق کی تعمیر ہے،۔

صدر بش نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا-

امریکی صدر نے بین االاا قوامی برادری سے بھی عراق میں وزیر اعظم نوری المالکی کی قیادت میں تعمیر نو اور ’جمہوریت اور آزادی‘ کے لیے اقتصادی، فنی اور طبیّ امداد کی اپیل کی۔

امریکی مبصروں کا کہنا ہے کہ صدر بش کے حالیہ دورہ عراق کے بعد ان کی مقبولیت کا گراف پہلے کی نسبت بہتر ہوا ہے۔ دورہ عراق سے پہلے صدر بش کی مقبولیت کا گراف تینتیس فیصد پر پہنچ چکا تھا جبکہ اب اس میں پانچ فیصد بہتری آئی ہے۔

مبصروں کے مطابق صدارتی کارگردگي کے بارے جارج بش کی مقبولیت کےگرتے ہوئے گراف میں کوئی اہم فرق نہیں پڑا۔

ایک بڑے امریکی الیکٹرانک میڈیا ادارے کی طرف سے کروائے گئے تازہ عوامی جائزے کے مطابق صدر بش کے حمایت یافتہ ریپلیکن پارٹی کے ووٹروں کی حمایت اب ستائيس فیصد ہوگئی ہے ۔

کئی مبصر صدر بش کے عراق دورے کو انکی پالیسیوں پرگرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا قرار دے رہے ہیں جس کی مثال وہ حال ہی میں امریکی کانگریس میں عراق سے فوجوں کی واپسی کے لیئے کسی بھی اوقات کار کا تعین نہ کرنے کی حمایت میں اکثریت سے منظور کی جانے والی قراراد دے رہے ہیں -

کانگریس نےدو دن میں بیس گھنٹے تک عراق سے فوجوں کی واپسی کی قرارداد پر بحث کے دوران صدر بش کی عراق پر پالیسیوں پر زبردست تنقید کے باوجود بھی دو سو چھپن ووٹوں سے قرار داد منظور کر لی تھی۔ قرارداد کی مخالفت میں ایک سوترپن ووٹ پڑے تھے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اتنے تناسب سے ووٹنگ کے باوجود کانگریس میں ڈیموکریٹک اور رپبلکن بٹے ہوئے تھے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے بیالیس ممبروں نے قرارداد کے حق میں اور ریپبلیکن پارٹی کے دو اراکین نے اسکی مخالفت میں ووٹ دیے تھے۔

رپبلکن پارٹی نے اپنے ان دو ارکان کو پارٹی کارروائی کے نوٹس دیئے ہیں اور عراق پالیسیوں پر صدر بش کی حمایت سے ان کی پہلوتہی پر سخت تنقید کی ہے-

اسی بارے میں
'تاریخ کا بدترین صدر'
09 May, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد