فن لینڈ: حقوق نسواں کا درخشاں باب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے ایک سو سال پہلے فن لینڈ کی خواتین دنیا میں حق رائے دہی اور انتخابات میں امیدوار بننے کے حقوق حاصل کرنے والی پہلح خواتین بنیں۔ اس کے محض ایک سال بعد ہونے والے عام انتخابات میں جو ممبران پارلیمان منتخب ہوئے ان میں انیس خواتین تھیں۔ تب سے ملک کی سیاست میں خواتین مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایک صدی کے بعد آج فن لینڈ کی پارلیمان میں خواتین کا تناسب خاصا صحتمندانہ یعنی اڑتیس فیصد ہے اور حال ہی میں ملک کی خاتون صدر ترجا ہالونین دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہو گئیں ہیں۔ یورپ اور دیگر دنیا کے کئی ممالک جنسی برابری میں فن لینڈ سے بہت پیچھے چل رہے ہیں۔ یورپی ملکوں میں سے اس میدان میں اٹلی کی کارکردگی سب سے بری ہے جہاں پر پارلیمان کی صرف گیارہ اعشارہ پانچ فیصد نشستیں خواتین کے پاس ہیں۔ عالمی سطح پر یہ تناسب سولہ اعشاریہ چھ فیصد ہے۔ جنسی برابری کے بہت اچھے ریکارڈ کے باوجود فن لینڈ کے وزیرخارجہ ارکی توموئجہ کا کہنا ہے: ’ ہم جنسی برابری کی بہترین مثال نہیں ہیں، ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے تاہم ہم باقی دنیا کے لیے ایک مثال ہیں۔‘ اس موقع پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر فن لینڈ خواتین کے سیاسی حقوق کی مثال بنا کیسے؟ فن لینڈ کی سیاست کے مبصر پروفیسراولاوی بورگ کے مطابق فن لینڈ میں تبدیلی کے عمل کو جس چیز سے مہمیز ملی وہ ملک کے انتحابی نظام میں زبردست تبدیلیاں تھیں۔
یکم جون 1906 کو فن لینڈ کی پارلیمان نے ایک قانون بنایا جس کے تحت سیاسی حقوق صرف امراء تک محدود رکھنے کی بجائے ملک کے تمام مردوں اور عورتوں کو یہ حق دے دیا۔اس قانون کے آنے سے پہلے ملک کے ستر فیصد بالغ شہریوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے پروفیسر بورگ نے پارلیمان کے اس فیصلے کے بارے میں کہا کہ یہ ’قانون کے ذریعے لایا جانے والا انقلاب‘ تھا۔ فن لینڈ میں یہ قانونی تبدیلی اس وقت لائی گئی جب ان کا ملک روس کے کنٹرول میں تھا اور روس جاپان کے ہاتھوں شکست کھا چکا تھا۔ فن لینڈ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی عمل میں اپنے شہریوں کا عمل دخل بڑھانے کے لیے قانونی ترمیم کر لی۔ فن لینڈ کے باقی دنیا سے آگے ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فرانس نے خواتین کو ووٹ کا حق اڑتیس سال بعد جبکہ سوٹزر لینڈ نے پینسٹھ برس بعد دیا۔ انٹر پارلینمنٹری یونین کے رکن کریں جابر کے خیال میں عورتوں کے حقوق میں بہتری پیدا کرنے کے لیے غیر معمولی سیاسی حالات زیادہ موزوں ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس سلسے میں وہ روانڈا، برونڈی، عراق اور افغانستان کی مثال دیتی ہیں جہاں پر جنگ کے بعد بننے والے آئین میں خواتین کے سیاسی حقوق میں بہتری آئی ہے۔ کریں جابر کے خیال میں دنیا کے بہت سے ممالک میں سیاست میں خواتین کے کردار کو بڑھانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر عرب دنیا اور بحرالکاہل کے ممالک میں۔
ان کا کہنا ہے کہ انتخابات لڑنے کا حق حاصل ہونے اور انتخابات جیت کر پارلیمان میں پہنچنے کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہے۔ ’کسی ملک میں انتخابات لڑنے کا حق حاصل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا اس کے بعد خواتین فوراً پارلیمان میں پہنچ جائیں گی۔ یہ بات تاریخ میں کئی بار ثابت ہو چکی ہے۔‘ | اسی بارے میں خواتین فوج کے دیگرشعبوں میں 21 April, 2006 | پاکستان مراکش: مساجد میں خواتین مبلغ تعینات04 May, 2006 | آس پاس ترکی: خودکشی پر ’مجبور‘ خواتین24 May, 2006 | آس پاس حدود آّرڈیننس اور حقوقِ نسواں14 December, 2005 | قلم اور کالم خواتین کے وفود کے تبادلے پر بات چیت04 March, 2006 | پاکستان عورتوں کے حقوق کے لئے جہاد پر زور28 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||