لبنان۔اسرائیل فائربندی: یو این | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر پیدا ہونے والی کشیدگی اور میزائل حملوں کے بعد انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان فائربندی کرادی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ اسے امید ہے کہ سرحد کے ساتھ کبھی کبھی ہونے والی فائرنگ میں کمی ہوجائے گی۔ گزشتہ دسمبر کے بعد سے پہلی بار لبنان سے اسرائیلی سرحد پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ لبنان میں موجود شدت پسندوں کو ’واضح اور سخت جواب ملے گا‘۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ لگ بھگ آٹھ میزائل فائر کیے گئے۔ کتویوشا نام کے یہ راکٹ لبنان کی سرحد سے بیس کلومیٹر اسرائیل کے اندر داغے گئے تھے۔ تاہم کسی شدت پسند تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ماضی میں لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ اور فلسطینی شدت پسند تنظیموں نے ایسے حملوں کی ذمہ داریاں قبول کی تھیں۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی ٹھکانے کو نشانہ کیوں بنایا گیا لیکن جمعہ کے روز لبنان میں اسلامی جہاد نامی تنظیم کے ایک سینیئر رہنما کار کے دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی میزائل فائر کا اسرائیل نے جواب دیا اور دو فضائی حملے فلسطینی شدت پسند تنظیم پاپولر فرنٹ فار دی لِبریشن آف فلسطینی کے ٹھکانوں پر کیے جن میں سے ایک ٹھکانہ بیروت کے قریب تھا جبکہ دوسرا شام کے قریب۔ پاپولر فرنٹ کے جنگجوؤں نے طیارہ شکن میزائلوں سے جوابی فائرنگ کی۔ ایک اسرائیلی جنرل نے کہا کہ ان کے فوجیوں نے حزب اللہ کی بیس چوکیوں پر حملے کیے کیوں کہ ایک اسرائیلی فوجی سرحد پار سے کی جانے والی فائرنگ میں زخمی ہوگیا تھا۔ حزب اللہ نے اسرائیلی حملوں کو لبنان میں ’سکیورٹی اور استحکام‘ کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں اسرائیل کے جنگی جہازوں کی بمباری28 May, 2006 | آس پاس فلسطینیوں سے بات کریں: بش24 May, 2006 | آس پاس اسرائیل نے حماس کمانڈر کو پکڑ لیا23 May, 2006 | آس پاس اسرائیلی سرحدی منصوبے کی’توثیق‘24 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||