BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 May, 2006, 22:11 GMT 03:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بارہ ہلاک اور 140 زخمی ہوئے‘
کابل
امریکی فوج کی فائرنگ سے کئی افغان ہلاک ہو گئے۔
افغان حکام کے مطابق پیر کے روز کابل میں ہونے والے امریکہ مخالف مظاہروں میں بارہ افراد ہلاک اور ایک سو چالیس زخمی ہوئے تھے۔

امریکی فوج نےکہا ہے کہ ایک امریکی فوجی ٹرک کی بریک فیل ہونے کی وجہ سے یہ کھڑی گاڑیوں سے ٹکرا گیا جس میں’ کئی‘ افغان ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد کابل میں ہنگامے شروع ہوگئے جس میں بارہ افراد ہلاک اور ایک سو چالیس زخمی ہو گئے تھے۔


امریکی فوجی حکام نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

کابل میں حادثے کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس میں امریکی فوج کے مطابق ’کئی‘ افغان ہلاک ہو ئے۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ ہلاکتیں ٹرک کی بریکیں فیل ہونے کی وجہ سے ہوئیں اور وہ ہلاک ہونے والے کے خاندان کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

سوموار کے روز ہونے والے واقعے پر غور کے لیےافغانستان کی پارلیمنٹ کا اجلاس ’خفیہ‘ مقام پر ہوا۔ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔

کابل میں رات کو کرفیو کے بعد منگل کو حالات معمول پر رہے اور کسی پرتشدد واقع کی اطلاع نہیں ملی ۔

طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد کابل کے یہ بدترین ہنگامے تھے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور انہوں نے امریکی فوج کے خلاف نعرے لگائے۔


عینی شاہدوں اور افغان حکام کے مطابق امریکی فوج نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مظاہرین پر گولی چلا دی۔ بعض ذرائع کے مطابق گولی افغان سکیورٹی فورسز کی طرف سے چلائی گئی۔
مشتعل ہجوم کابل کی سڑکوں پرگشت کرتا رہا

مظاہرین پر گولی چلائے جانے کے بعد شہر کے دیگر حصوں میں بھی احتجاج شروع ہو گیا اور مشتعل شہریوں نے پولیس کی چوکیوں پر حملے کیے۔

مظاہروں کے دوارن ایک موقع پر اتحادی افواج میں شامل برطانوی رائل میرینز نے یورپی یونین کے عملے میں شامل سولہ ارکان کو مظاہروں میں گھرے ایک احاطے سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچایا۔

مظاہرین نے کابل کے سرینہ ہوٹل پر بھی پتھراؤ کیا اور ایک ہجوم نے ہوٹل میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش کی۔

کابل سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے کے قرب و جوار کے علاوہ شہر کے متعدد علاقوں سےگولیوں کی آوازیں سنائی دیں اور اطلاعات کے مطابق امریکی سفارت خانے کے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا۔

سنیچر کو ہونے والا واقعہ
افغان پولیس نے بتایا کے بگرام سے آنے والے امریکی فوجی قافلے میں شامل ایک فوجی ٹرک کابل کے مضافات میں ایک سڑک پر افغان شہریوں کی بارہ گاڑیوں سے ٹکرا گیا جس میں سات کے قریب افراد ہلاک ہو گئے۔

اس حادثے کے بعد جمع ہونے والے ہجوم نے امریکہ اور کرزئی مخالف نعرے لگاتے ہوئے فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا اور کاروں کو آگ لگا دی۔

مشتعل ہجوم نے دو پولیس گاڑیوں اور ایک حفاظتی چوکی کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔

کابل میں موجود بی بی سی کے عربی سروس کے نامہ نگار کفایت اللہ نبی خیل نے اردو سروس کو بتایا کہ حادثے کے دس پندرہ منٹ بعد احتجاج شروع ہو گیا جو مغرب کے وقت تک جاری رہا۔

انہوں نے عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا کہ ہنگاموں میں کم از کم دس افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ صدر حامد کرزئی نے رات کو افغان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے عوام کو پرامن احتجاج کرنے کی تلقین کی۔

انہوں نے واقع کی تحقیقات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد