BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 May, 2006, 09:27 GMT 14:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل میں ہنگامے، ہلاکتوں کا خدشہ
کابل
مشتعل افراد نے امریکی فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا
کابل میں امریکی فوجی قافلے کے ساتھ ٹریفک تصادم میں کم از کم سات افراد کے مارے جانے کے بعد شہر میں شروع ہونے والے ہنگاموں میں متعدد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب امریکہ مخالف نعرے لگاتے ہوئے ایک مشتعل ہجوم نے پولیس کا گھیرا توڑ کر حکومتی عمارات اور سفارتخانوں کے قریب جانے کی کوشش کی۔

کابل سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے کے قرب و جوار کے علاوہ شہر کے متعدد علاقوں سےگولیوں کی آواز سنائی دے رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق امریکی سفارت خانے کے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

افغان پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ہنگامے ایک ٹریفک جام کے دوران امریکی قافلے کی گاڑیوں کے دیگرگاڑیوں سے تصادم کے بعد شروع ہوئے۔ اس حادثے کے بعد جمع ہونے والے ہجوم نے امریکہ اور کرزئی مخالف نعرے لگاتے ہوئے فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا اور کاروں کو آگ لگا دی۔ مشتعل
ہجوم نے دو پولیس گاڑیوں اور ایک حفاظتی چوکی کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔

مشتعل ہجوم کابل کی سڑکوں پر گشت کرتا رہا

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان یوسف ستنیزی نے ہنگاموں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کابل میں اتحادی افواج کے ایک ٹریفک حادثے کے بعد پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں‘۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے عوام سے پرسکون رہنے کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس حادثے کی حقیقت جاننے کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔

اتحادی فوج نے بھی کابل میں حادثے کی تصدیق کی ہے تاہم فوج کی جانب سے اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ فوج کی ترجمان کا کہنا تھا کہ’ ہم اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور فی الحال ہمارے پاس مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں‘۔

ادھر افغان حکام کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے ہلمند صوبے میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ ہلمند کے نائب گورنر امیر محمد اخوندزادہ کے مطابق اس بمباری سے ایک اندازے کے مطابق پچاس کے قریب طالبان ہلاک ہوئے ہیں تاہم اصل تعداد کا اندازہ پولیس کے جائے وقوع پر پہنچنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد