مچھلی: قرآنی تحریر سے مشابہ نشانات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیا کے حکام کو ایک ایسی مچھلی ملی ہے جس کے اوپر موجود نشانات قرآن کی تحریر سے مشابہت رکھتےہیں۔ یہ ٹیونا مچھلی مسلمان حلقوں کے لیئے زبردست دلچسپی کا باعث ہے۔ مچھلی ملنے کے بعد اسے بظاہر چند لوگوں نے چرا لیا تھا جو اپنے آپ کو نیشنل میوزیم کے اہلکار ظاہر کررہے تھے۔ بعد میں یہ مچھلی ایک دکان پر پائی گئی جہاں اسے بیچنے کے لیئے لایا گیا تھا۔ تاہم اس کے اوپر موجود غیر معمولی نشانات گاہکوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ یہ جاننے کے لیئے کہ مچھلی پر آیا کچھ لکھا ہوا ہے یا مشابہت رکھتا ہے، اس کا تجزیہ کیا گیا۔ بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ اس پر عربی لکھا ہے ’آپ ہی سب سے بڑے رزق دینے والے ہیں‘۔ تنقید کار کہتے ہیں کہ اس پر موجود تحریر در اصل چند لوگوں کا کام ہے جنہوں نے مچھلی پکڑنے کے بعد اس پر تحریر درج کردی۔ تاہم دیگر افراد کا خیال ہے کہ ایسا کرنا ناممکن ہے۔ مقامی مساجد کے امام بھی مساجد میں اس مچھلی کا ذکر بطور خاص کررہے ہیں۔
ممباسا میں اس دکان کے مالک، جہاں سے یہ دوبارہ ملی ہے، بتاتے ہیں کہ انہیں مچھلی کی چوری کے سلسلے میں پولیس کی پوچھ گچھ کا سامنا رہا۔ دکاندار کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک شخص یہ مچھلی فروخت کرنے آیا تھا تاکہ اسے ہم محفوظ کرلیں۔ مچھلی کے نشانات اس قرآنی آیت سے مشابہ ہیں ’و انت خیر الرازقین‘۔ اختتام ہفتہ کئی لوگ اس مچھلی کا مشاہدہ کرنے دکان میں آئے۔ یہ مچھلی سعد علی نامی مچھیرے نے پچھلے ہفتے کینیا کی بندرگاہ سے پکڑی تھی۔ حفاظت کی خاطر ڈھائی کلو وزنی اس مچھلی کو سرکاری فشریز کے محکمہ میں دے دیا گیا تھا۔ مسلمان رہنماؤں کے مطالبے کے بعد نیشنل میوزیم نے کہا تھا کہ وہ اس مچھلی کو اپنی تحویل میں لے لیں گے۔ مسلمان حلقوں نے اسے خریدنے کی بھی کوششیں کیں۔ ایک شخص تو اس کے بدلے 150 ڈالر دینے کو تیار تھا۔ تاہم اسی دوران یہ چوری ہوگئی۔ عام حالات میں اس سائز کی مچھلی چھ ڈالر سے زیادہ میں فروخت نہیں ہوتی۔ | اسی بارے میں ’مرغے نے اللہ کی بانگ دی‘29 March, 2006 | آس پاس کشتی وہیل سے ٹکرا گئی،97 زخمی10 April, 2006 | آس پاس وہیل واپس نہ جا سکی21 January, 2006 | آس پاس ’وہیل شارک‘ چھوٹی ہونے لگی18 January, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||