پاکستان کی رکنیت کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان، ایران اور سعودی عرب کو اقوام متحدہ کی نئی حقوق انسانی کونسل کا رکن منتخب نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ بات امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ نےصحافیوں کو بتایا کہ ایسے ممالک کو حقوق انسانی کونسل کی رکنیت کے لیے منتخب نہیں کرنا چاہیے جن کا اپنا انسانی حقوق کا ریکارڈ خراب ہے۔ انہوں نے جن سات ممالک کو حقوق انسانی کونسل کے لیے نااہل قرار دیا ان میں کیوبا، روس، چین اور آذربائیجان بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ میں اس مہینےکی نو تاریخ کو پہلی حقوق انسانی کونسل کی رکنیت کے لیے انتخابات ہوں گے۔ 65 ممالک نے اس سلسلے میں اپنے نام پیش کیے ہیں ۔ مسٹر روتھ کے مطابق سب سے زیادہ خراب ریکارڈ والے کئی ممالک خود ہی پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ’ اچھی خبر یہ ہے کہ بہت سے ایسے ممالک جن کا حقوق انسانی کا ریکارڈ سب سے زیادہ خراب تھا، مثلاً سوڈان، شمالی کوریا، بیلاروس، زمبابوے، ازبکستان، اور نیپال، انہیں اس کونسل کی رکنیت کے لیئے کھڑے ہونے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ اب یہ اقوام متحدہ کے ارکان پر منحصر ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی دیگر حکومتوں کو کونسل سے باہر رکھے تاکہ یہ کونسل حقوق انسانی کی صحیح چیمپئین بن سکے۔‘ حقوق انسانی کونسل پندرہ مارچ کو اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے ذریعے وجود میں آئی تھی۔ اس کے ممبران براہ راست اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے خفیہ ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوں گے۔ رکنیت کے امیدواروں کو کم از کم 96 ووٹ درکار ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے کل رکن ایک سو اکانوے ہیں۔ اس کونسل کے ارکان کی تعداد 47 ہوگی جس میں سے 13 کا تعلق افریقہ، 13 کا ایشیاء، 6 کا مشرقی یورپ، 8 کا لاطینی امریکہ اور کیریبین، اور 7 کا مغربی یورپ اور دیگر ممالک سے ہوگا جن میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھارت اور جنوبی افریقہ پر بھی تنقید کی لیکن ان کی رکنیت کی مخالفت نہیں کی۔ یہ نئی کونسل پرانے حقوق انسانی کمیشن کی جگہ بنائی گئی ہے۔ اس کمیشن پر اعتراض یہ تھا کہ اس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک بھی شامل ہو سکتے تھے۔ امریکہ، جو اس سے قبل اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن پر کھلی تنقید کرتا رہا ہے، ابتدًا یہ کونسل قائم کرنے کے خلاف تھا۔ امریکہ کا موقف ہے کہ اس کونسل میں رکنیت کے لیے ابھی بھی معیار اتنے بلند نہیں جتنے ہونے چاہئیں، اور رکنیت کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہونی چاہیے۔ امریکہ نے اس سال کی کونسل میں رکنیت کے لیے اپنا نام داخل نہیں کیا۔ اس کونسل کا ممبر بننے والے ممالک کو انسانی حقوق کے اپنے داخلی ریکارڈ پر نظر رکھنی ہوگی۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن نے اس کونسل کی رکنیت کے لیے اگلے ہفتے کی ووٹنگ سے پہلے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ | اسی بارے میں ’انسانی حقوق خطرے میں‘10 December, 2004 | آس پاس مجرم آزاد،مدعی قید ہیں: مختارمائی 12 June, 2005 | پاکستان انسانی حقوق، مسلمان اور امریکہ27 June, 2005 | آس پاس نئی انسانی حقوق کونسل کا قیام16 March, 2006 | آس پاس جیل: سینیٹ کمیٹی کی تشویش07 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||