BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 April, 2006, 06:54 GMT 11:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کٹھمنڈو میں پھر سے کرفیو

 مظاہرین
’جتنا جبر ہوگا تحریک اتنی شدت سے چلے گی‘
نیپالی دارالحکومت کٹھمنڈو میں شاہ کے خلاف مظاہرے روکنے کے لیئے پھر سے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔نیپال کا سات سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد منگل کو ایک بڑے مظاہرے کی تیاری کر رہا ہے۔

سات گھنٹے طویل کرفیو مقامی وقت کے مطابق پیر کو گیارہ بجے نافذ کیا گیا۔

ملک میں شاہ گیانندرہ کے براہ راست اقتدار سنبھالنے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے مسلسل انیس روز سے جاری ہیں۔

دریں اثناء باغیوں کے ایک حملے کے نتیجے میں پانچ باغی، ایک فوجی اور ایک عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ حملہ چتارا کے قصبے میں کیا گیا۔

سات جماعتی اتحاد کا دعوٰی ہے کہ منگل کے مظاہرے میں کٹھمنڈو اور اس کے اطراف سے لاکھوں لوگ شریک ہوں گے۔

نیپالی کانگریس کے ترجمان کرشن پرساد سیٹولا نے کہا ہے کہ ’منگل کو شہر کے سات بڑے مقامات پر اتحاد کے ساتوں رہنما مظاہرین سے خطاب کريں گے۔ یہ مظاہرہ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور ہم نے فوج اور پولیس سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ تحّمل کا مظاہرہ کريں اور پرامن مظاہرین پر ظلم نہ کریں‘۔

کرشن سیٹولا کا کہنا تھا کہ’شاہ کی حکومت جتنا جبر کرے گی یہ تحریک اتنی شدت اختیار کرے گی اور راجہ کو اب جھکنا ہی پڑے گا‘۔

ساتوں جماعتوں کے اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ معطل پارلیمنٹ فوراً بحال کی جائے۔ تاکہ ایک عبوری حکومت قائم ہو سکے جس کے تحت ایک آئین ساز اسمبلی منتخب کی جائے۔

سیاسی کارکن پیر کو کٹھمنڈو میں سینکڑوں مقامات پر منگل کی ریلی کے لیئے عوام کو تیار کر رہےہیں جبکہ شہر میں آج بھی دن بھر کا کرفیونافذ ہے۔

اب تک مظاہروں میں پولیس کی فائرنگ سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار بتائی جا رہی ہے جن میں بہت سے لوگ بری طرح زخمی ہیں۔

مظاہروں میں اب تک کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں

منگل کا مظاہرہ شہر کی ’رنگ روڈ‘ پر ہوگا جبکہ سیاسی جماعتوں نے بدھ کو شہر کے اندرونی علاقوں میں دھرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو دنوں سے مظاہرین سے پولیس کا رویہ مزید سخت ہوا ہے اور انہیں منتشر کرنے کے لیئے ہر اہم چوراہے اور سڑک پر فوج اور پولیس کے مسلح دستے تعینات کیئےگئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کو بھی ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین شاہ گیانندرا کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شہر کے وسط تک جانے کے خواہش مند تھے۔ تاہم سکیورٹی کی ذمہ دار ایجنسیوں نے گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کردیں اور شہر کے وسط کی طرف جانے والے راستے روک دیئے۔

اتوار کو مظاہرین کی تعداد ہفتے کے مقابلے میں نسبتاً کم تھی۔ ہفتے کو تقریباً ایک لاکھ افراد نے سڑکوں پر نکل کر شاہ گیانندرا کے اقتدار کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

نیپالی عوامی تحریک
جدید نیپالی تاریخ کی پہلی عوامی تحریک
بادشاہ نہیں، جمہور
کھٹمنڈومظاہرے: بی بی سی کےنامہ نگارنےدیکھا؟
نیپالرائے دیں
نیپال میں جمہوریت کے لیے تحریک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد