کٹھمنڈو میں پھر سے کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپالی دارالحکومت کٹھمنڈو میں شاہ کے خلاف مظاہرے روکنے کے لیئے پھر سے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔نیپال کا سات سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد منگل کو ایک بڑے مظاہرے کی تیاری کر رہا ہے۔ سات گھنٹے طویل کرفیو مقامی وقت کے مطابق پیر کو گیارہ بجے نافذ کیا گیا۔ ملک میں شاہ گیانندرہ کے براہ راست اقتدار سنبھالنے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے مسلسل انیس روز سے جاری ہیں۔ دریں اثناء باغیوں کے ایک حملے کے نتیجے میں پانچ باغی، ایک فوجی اور ایک عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ حملہ چتارا کے قصبے میں کیا گیا۔ سات جماعتی اتحاد کا دعوٰی ہے کہ منگل کے مظاہرے میں کٹھمنڈو اور اس کے اطراف سے لاکھوں لوگ شریک ہوں گے۔ نیپالی کانگریس کے ترجمان کرشن پرساد سیٹولا نے کہا ہے کہ ’منگل کو شہر کے سات بڑے مقامات پر اتحاد کے ساتوں رہنما مظاہرین سے خطاب کريں گے۔ یہ مظاہرہ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور ہم نے فوج اور پولیس سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ تحّمل کا مظاہرہ کريں اور پرامن مظاہرین پر ظلم نہ کریں‘۔ کرشن سیٹولا کا کہنا تھا کہ’شاہ کی حکومت جتنا جبر کرے گی یہ تحریک اتنی شدت اختیار کرے گی اور راجہ کو اب جھکنا ہی پڑے گا‘۔ ساتوں جماعتوں کے اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ معطل پارلیمنٹ فوراً بحال کی جائے۔ تاکہ ایک عبوری حکومت قائم ہو سکے جس کے تحت ایک آئین ساز اسمبلی منتخب کی جائے۔ سیاسی کارکن پیر کو کٹھمنڈو میں سینکڑوں مقامات پر منگل کی ریلی کے لیئے عوام کو تیار کر رہےہیں جبکہ شہر میں آج بھی دن بھر کا کرفیونافذ ہے۔ اب تک مظاہروں میں پولیس کی فائرنگ سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار بتائی جا رہی ہے جن میں بہت سے لوگ بری طرح زخمی ہیں۔
منگل کا مظاہرہ شہر کی ’رنگ روڈ‘ پر ہوگا جبکہ سیاسی جماعتوں نے بدھ کو شہر کے اندرونی علاقوں میں دھرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے مظاہرین سے پولیس کا رویہ مزید سخت ہوا ہے اور انہیں منتشر کرنے کے لیئے ہر اہم چوراہے اور سڑک پر فوج اور پولیس کے مسلح دستے تعینات کیئےگئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کو بھی ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین شاہ گیانندرا کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شہر کے وسط تک جانے کے خواہش مند تھے۔ تاہم سکیورٹی کی ذمہ دار ایجنسیوں نے گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کردیں اور شہر کے وسط کی طرف جانے والے راستے روک دیئے۔ اتوار کو مظاہرین کی تعداد ہفتے کے مقابلے میں نسبتاً کم تھی۔ ہفتے کو تقریباً ایک لاکھ افراد نے سڑکوں پر نکل کر شاہ گیانندرا کے اقتدار کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ |
اسی بارے میں ’منگل کوپانچ لاکھ کا مظاہرہ ہوگا‘23 April, 2006 | آس پاس کرفیو کی خلاف ورزی پر جھڑپیں23 April, 2006 | آس پاس جدید نیپالی تاریخ کی پہلی عوامی تحریک 23 April, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو میں دن بھر کا کرفیو نافذ22 April, 2006 | آس پاس نیپال: ’تحریک عوام کے ہاتھ میں‘22 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||