پاکستانی نژاد امریکی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور کینیڈا کی خفیہ ایجنسیاں ٹورانٹو کے تین رہائشیوں کی تلاش کررہی ہیں جن سے ملکر امریکی تنصیبات پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں دو مسلم شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ احسان الاسلام صدیقی اور 21 سالہ پاکستانی نژاد امریکی سید حارث احمد کو ایف بی آئی نے گرفتار کیا ہے۔ ان افراد پر امریکہ میں تیل کے کارخانوں اور ملٹری کے اڈوں پر ممکنہ حملوں کا الزام ہے۔ امریکہ کی ایک عدالت کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق یہ دونوں افراد کینیڈا میں مقیم دیگر تین افراد سے مل جل رہے تھے اور ان تینوں پر پہلے ہی کڑی نظر رکھی جارہی تھی۔ ان افراد پر گلوبل پوزیشننگ سیسٹم کو جام کرنے کی پلاننگ کرنے کا بھی الزام ہے۔ گلوبل پوزیشننگ سیسٹم یعنی جی پی ایس اس خلائی مشن کا نام ہے جو امریکہ کے کنٹرول میں ہے اور اس کے ذریعے جہازوں کے راستوں کا تعین سے لیکر موبائل فون کے ذریعے بات چیت کرنا ممکن ہوتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ افراد پاکستان میں جہادی کیمپوں سے تربیت یافتہ ہیں۔ ایف بی آئی کے مطابق صدیقی اور حارث احمد مارچ 2005 میں ٹورانٹو آئے جہاں وہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے ایک گروہ کے ساتھ رہے۔ حارث احمد کو ایف بی آئی نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے مگر انہوں نے جارجیا کی ایک عدالت میں اپنے بےگناہ ہونے کی درخواست دی ہے۔ جبکہ صدیقی کو بنگلہ دیش سے گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر دوران تفتیش جھوٹ بولنے کا الزام ہے جس کے مطابق وہ بنگلہ دیش شادی کرنے گئے تھے۔ صدیقی کو ایف بی آئی نیو یارک لے آئی ہے۔ اٹلانٹا جارجیا میں ایک ٹیلی ویژن رپورٹ کے مطابق حارث احمد کے گھروالوں نے ان کے حال ہی میں پاکستان جانے کی تصدیق کی ہے مگر انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان مذہبی تعلیم کے لیے گئے تھے، نہ کہ جہادی ٹریننگ کے لیے۔ کینیڈا اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیاں ٹورانٹو کے تین رہائشیوں کو جن سے یہ منسلک رہے، گرفتار کرنے کے لیے کوشش میں مصروف ہیں جبکہ کینیڈا میں موجود مسلم کمیونٹی میں خوف و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق صدیقی کینیڈا میں زیرتعلیم رہے ہیں اور ان کے رشتہ دار بھی ٹورانٹو میں ہیں۔ لیکن صدیقی کے وکیل کے مطابق ان کا کوئی رشتہ دار ٹورانٹو میں نہیں ہے اور وہ صرف دو سال ہائی اسکول میں زیر تعلیم رہے۔ صدیقی امریکی ریاست جارجیا میں خواتین کی بہبود کے ایک ادارے کے لیے کام کررہے تھے۔ جبکہ حارث احمد کا خاندان 1997 میں امریکہ منتقل ہوا اور وہ امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ ایف بی آئی نے ان کے کمپیوٹر، سی ڈیز اور دیگر دستاویزات قبضہ میں لے لی ہیں جن میں واشنگٹن اور ورجنیا کے نقشے بھی شامل ہیں۔ جارجیا میں امریکی اٹارنی ڈیوِڈ ناہمیاس نے کہا ہے کہ حارث احمد کے خلاف الزامات سنگین اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ ادھر امریکی محکمۂ انصاف کے اہلکاروں کے مطابق فوری طور پر کسی امریکی تنصیب کو حملے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ کینیڈین بارڈر سروسز اور امیگریشن پر پہلے ہی مسلم کمیونٹی خصوصا پاکستانیوں کے خلاف بےبنیاد کارروائیوں کے الزامات ہیں۔ سن 2003 میں بائیس پاکستانی طالب علموں اور ایک بھارتی شہری کو القاعدہ کے ساتھ تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں ان گرفتاریوں کو امیگریشن کی معمول کی کارروائی بتایا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ایف بی آئی پر چشم پوشی کا الزام24 May, 2005 | پاکستان لوڈی:’پاکستانی باپ بیٹےکا اعتراف‘11 March, 2006 | آس پاس کراچی: جائے وقوعہ پر ایف بی آئی05 March, 2006 | پاکستان ’ہائی جیک پلاٹ سے خبردار کیا تھا‘21 March, 2006 | آس پاس ’ہائی جیکر پکڑے جا سکتے تھے‘24 March, 2006 | آس پاس پرل کیس: ایف بی آئی ایجنٹ کا بیان11.05.2002 | صفحۂ اول امریکی مسلمان اور ایف بی آئی08 November, 2004 | آس پاس القاعدہ کی تلاش،گرفتاریاں26.11.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||