افغانستان میں ترک انجینیئر قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی افغانستان میں مبینہ طالبان عسکریت پسندوں نے ایک ترک انجینیئر کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ ترک انجینیئر افغانستان میں سڑک کی تعمیر کے ایک منصوبے پر کام کررہے تھے۔ حملے کے وقت وہ فرح اور نمروز صوبوں کی سرحد کے ساتھ اپنی گاڑی میں سفر کررہے تھے جب انہیں مبینہ طالبان نے گاڑی سے باہر نکال کر گولی مار دی۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق انجینیئر کی لاش کو بعد میں آگ لگادی گئی۔ امریکی امداد سے چلنے والے منصوبوں سے منسلک کمپنیوں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں جبکہ گزشتہ برس کئی غیر ملکی ملازمین کو ہلاک اور اغوا بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اب یہ حالیہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا ہے اور انجینیئر کے ساتھ تین پولیس گارڈ بھی موجود تھے۔ سفر کے دوران ایک اور گاڑی نے ان کی گاڑی کا رستہ روک لیا اور باہر نکلنے کو کہا۔ ترک فرد کے ساتھ موجود تینوں محافظین کو چھوڑ دیا گیا۔ جنوبی افغانستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ علاقوں میں تو حالات اتنے خراب ہیں کہ انہیں امدادی کارکنوں کے لیئے ’نو گو ایریا‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ 2005 میں کیئے گئے حملوں میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ 2001 میں امریکی حملے کے بعد سب سے خونی سال ثابت ہوا ہے۔ | اسی بارے میں حکومت حامی افغان رہنما ہلاک18 March, 2006 | آس پاس غیر ملکی فوجیوں سمیت 14 ہلاک29 March, 2006 | آس پاس افغانستان: ترکِ اسلام کا ملزم رہا28 March, 2006 | آس پاس عبدالرحمان کی رہائی پر احتجاج27 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||