BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 April, 2006, 04:19 GMT 09:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران زلزلہ، لوگوں کی تلاش بند
بروجرد
متاثرین کھلے آسمان کے نیچے وقت گزار رہے ہیں
ایران میں زلزلے کے بعد ملبے میں دبے لوگوں کی تلاش کا کام بند کیا جا رہا ہے۔ اب تک اس سانحہ میں کم از کم ستر افراد کے ہلاک اور ایک ہزار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

اگرچہ زلزلے کی شدت شدت ریکٹر سکیل پر تقریباً چھ ریکارڈ کی گئی لیکن پھر بھی اس سے تین سو سے زیادہ دیہات تباہ ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق بڑے جھٹکے سے پہلے جو ہلکے جھٹکے محسوس ہوئے تھے ان کی وجہ سے زیادہ تر لوگ گھروں سے نکل گئے تھے اس لئے جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔

زلزلہ کا مرکز صوبہ لرستان کے صنعتی قبصے دورود اور بروجرد کے نزدیکی دیہات تھے۔ لرستان کی ’ڈیزاسٹر کنٹرول کمیٹی‘ کے سربراہ علی بارانی کا کہنا ہے زلزلے سے 330 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

علی بارانی کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے متعدد دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں تاہم ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا اندیشہ نہیں کیونکہ لوگ ابتدائی جھٹکوں کے بعد اپنےگھروں سے باہر نکل آئے تھے۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے متاثرین کو امداد پہنچانے پر زور دیا ہے جبکہ امریکی صدر بش نے بھی مدد پیشکش کی ہے۔ انہوں نے میکسیکو میں اپنے دورے کے دوران کہا کہ اگرچہ ایرانی حکومت سے ہمارے اختلافات ہیں لیکن ہم ایران کے عوام کی پریشانی کو سمجھتے ہیں۔

زلزلے سے تباہی
اپنوں کی جدائی اور گھروں کی تباہی پر نوحہ کناں ایرانی خواتین

امریکہ نے عارضی رہائش کے لیئے خیمے، کمبل، پلاسٹک کی شیٹس، صحت عامہ کی چیزیں اور پانی کے یونٹ مہیا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے بھی کہا ہے کہ امریکہ ایران کو انسانی ہمدردی کے تحت امداد دینے کے لیئے تیار ہے۔

دورود میں عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ آدھی رات کو آنے والے اس زلزلے سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دورود کے گورنر کا کہنا ہے کہ ہسپتال زخمیوں سے بھرگئے ہیں اور انہوں نے اطراف کے صوبوں سے مدد کی اپیل بھی کی ہے۔ گورنر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دورود کےعلاقے میں ٹیلیفون، بجلی اور گیس کی سپلائی منقطع ہو گئی ہے۔

دورود کے ایک رہائشی محمود چہرمیری نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتا یا کہ ’ ہم گھروں میں جانے سے خوفزدہ ہیں۔ میں نے اپنے خاندان کے ہمراہ رات کھلے آسمان تلے بسر کی ہے‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ درمیانے درجے کا تھا۔ ایران میں اس سے پہلے بھی زلزلے آتے رہے ہیں اور 2003 میں بام میں آنے والے زلزلے میں چالیس ہزار لوگ ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 2004 میں کرمان میں آنے والے زلزلہ میں کم از کم چار سو اور 2005 میں کرمان میں ہی زلزلے سے چھ سو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد