ایران میں زلزلے، درجنوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی ایران میں آنے والے زلزلوں میں کم از کم چھیاسٹھ افراد ہلاک اور ایک ہزار کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ زلزلہ کی شدت ریکٹر سکیل پر تقریباً چھ ریکارڈ کی گئی۔ زلزلہ کا مرکز صوبہ لرستان کے صنعتی قبصے دورود اور بروجرد کے نزدیکی دیہات تھے۔ لرستان کی ’ڈیزاسٹر کنٹرول کمیٹی‘ کے سربراہ علی بارانی کا کہنا ہے زلزلے سے 330 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ علی بارانی کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے متعدد دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں تاہم ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا اندیشہ نہیں کیونکہ لوگ ابتدائی جھٹکوں کے بعد اپنےگھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے متاثرین کو امداد پہنچانے پر زور دیا ہے جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو انسانی ہمدردی کے تحت امداد دینے کے لیئے تیار ہے۔ دورود میں عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ آدھی رات کو آنے والے اس زلزلے سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دورود کے گورنر کا کہنا ہے کہ ہسپتال زخمیوں سے بھرگئے ہیں اور انہوں نے اطراف کے صوبوں سے مدد کی اپیل بھی کی ہے۔ گورنر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دورود کےعلاقے میں ٹیلیفون، بجلی اور گیس کی سپلائی منقطع ہو گئی ہے۔ دورود کے ایک رہائشی محمود چہرمیری نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتا یا کہ ’ ہم گھروں میں جانے سے خوفزدہ ہیں۔ میں نے اپنے خاندان ے ہمراہ رات کھلے آسمان تلے بسر کی ہے‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ درمیانے درجے کا تھا۔ ایران میں اس سے پہلے بھی زلزلے آتے رہے ہیں اور 2003 میں بام میں آنے والے زلزلے میں چالیس ہزار لوگ ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 2004 میں کرمان میں آنے والے زلزلہ میں کم از کم چار سو اور 2005 میں کرمان میں ہی زلزلے سے چھ سو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ایرانی زلزلہ: 550 سے زائد ہلاک 25 February, 2005 | آس پاس ایران میں زلزلہ، سینکڑوں ہلاک22 February, 2005 | آس پاس ایران میں زلزلہ،80 افراد ہلاک28 May, 2004 | آس پاس اجتماعی قبریں: پانچ ہزار کی تدفین28 December, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||