BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 March, 2006, 09:01 GMT 14:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد: امریکی کارروائی پر سخت تنقید
جس علاقے میں جھڑپیں ہوئی ہیں وہ مہدی ملیشیاء کے کنٹرول میں ہے
جس علاقے میں جھڑپیں ہوئی ہیں وہ مہدی ملیشیاء کے کنٹرول میں ہے
عراقی سیاسی قیادت نے بغداد کی ایک شیعہ مسجد پر ہونے والی امریکی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی میں سولہ مزاحمت کار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اٹھارہ کو گرفتار کرنے کے علاوہ ایک بڑی مقداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

تاہم عراق میں برسراقتدار شیعہ اتحاد کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے میں سے زیادہ تر عام شہری تھے جو نماز ادا کر رہے تھے۔

عراق کے وزیر داخلہ کے مطابق مسجد میں گھس کر معصوم شہریوں کو ہلاک کرنا بلاجواز اور اشتعال انگیز کارروائی ہے۔

دبئی میں قائم العربیہ ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے وزیر داخلہ بائن جبر نے کہا کہ کم از کم 18 افراد جو مغرب کی نماز ادا کررہے تھے امریکی کارروائی کا نشانہ بنے اور شہادت کے مرتبے کو پہنچے۔

اس سے پہلے عراقی وزیراعظم ابراہیم الجعفری نے امریکی حکام سے اتوار کو ایک مسجد کے پاس ہونے والی کارروائی پر تشویش ظاہر کی ہے۔

امریکیوں کا کہنا ہے کہ کارروائی عراقی سکیورٹی دستوں نے کی اور ان کے فوجی صرف مشاورت کر رہے تھے۔ ان کا اصرار ہے کہ ان کے فوجی مسجد میں داخل نہیں ہوئے۔

عراقی پولیس کا کہنا ہے بغداد کے شمال مشرق میں اس جھڑپوں کے دوران بیس افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ امریکی فوج ہلاک ہونے والوں کی تعداد سولہ بتاتی ہے۔

دریں اثنا بغداد میں نو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

اتوار کو ہونے والی جھڑپ کے بارے میں پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ امریکی فوج ایک مفرور کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب اس کی جھڑپ مقتدی الصدر کی ملیشیا کے ارکان سے ہو گئی۔

مقتدی الصدر کی ملیشیاء کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بغداد میں مسجد المصطفیٰ کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو مسجد میں عبادت میں مصروف تھے۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ عراقی پولیس کی مزاحمت کاروں کے ایک اڈے پر کارروائی میں مدد کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں سولہ مزاحمت کار ہلاک اور پندرہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

امریکی فوج نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس کارروائی میں کسی مسجد کو نشانہ بنایا گیا یا مسجد کے اندر گھس کر کارروائی کی گئی۔

مقتدی الصدر کے معتمد حازم الاعرجي نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج نے مسجد کے اندر عبادت میں مصروف معصوم لوگوں کا قتل عام کیا ہے اور ہسپتال کے ذرائع نے اس واقع میں ہلاک ہونے والے میں سے اٹھارہ کی تصدیق کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد