BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 March, 2006, 22:55 GMT 03:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس میں مظاہرے، سینکڑوں گرفتار
طلباء کہتے ہیں کہ متنازع قانون ملازمتوں میں اسحتکام کو ختم کر دے گا
فرانس میں متنازع لیبر قوانین کے خلاف ہزاروں فرانسیسی طلباء نے پیرس میں پرتشدد احتجاج کیا ہے۔

درجنوں طلباء نے کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیئے، دوکانوں کو لوٹ لیا، گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا اور پولیس پر پتھر برسائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پرتشدد مظاہروں کے دوران چار سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تاہم مظاہرین کی اکثریت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پرامن رہی۔

یونین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیرِ اعظم ڈی ویلیپاں سے بات چیت پر اتفاق کیا ہے اور یہ ملاقات جمعہ کو ہوگی جس میں نئے تنازعے پر مذاکرات کیئے جائیں گے۔ یونین چاہتی ہے کہ حکومت نیا متنازع قانون ختم کر دے۔

یونین نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس وقت تک مذاکرات نہیں کرے گی جب تک فرسٹ ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ واپس نہیں لیا جاتا۔ یونین کے رہنماؤں نے یہ بھی کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات میں صرف اور صرف مطالبات کے حق میں بات کی جائے گی۔

فرانسیسی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ یونین رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں قانون میں ترمیم کی بات کریں گے لیکن اسے واپس نہیں لیں گے۔

منگل کو اس قانون کے خلاف فرانس میں ہڑتال بھی بلائی گئی ہے۔

قانون کے خلاف احتجاج مظاہروں کی شکل میں پورے فرانس میں پھیل گیا ہے اور اکثر مظاہرے تشدد پر منتہج ہوئے ہیں۔

وزیرِ اعظم ڈی ویلیپاں قانون واپس لینے پر تیار نہیں البتہ اس میں ترمیم کا عندیہ دے رہے ہیں

جمعرات کو ہونے والے مظاہروں میں پیرس کے وسط میں پولیس نے پرامن مظاہرین کو دیگر مظاہرین سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی اور آنسو گیس کے شیل پھینکے۔

کئی مظاہرین نے یہ کوشش بھی کی کہ وہ اس گروپ سے الگ رہیں جو تشدد پر اترا ہوا ہے۔

مظاہروں میں شریک ایک بائیس سالہ نوجوان چارلی ہربلن نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس مرتبہ کئی مجرم بھی مظاہروں کی آڑ میں چوری چکاری اور توڑ پھوڑ کر رہے ہیں اور اس وجہ سے تحریک کا نام بدنام ہو رہا ہے۔

فرانس کے مشرقی شہر سٹراسبرگ میں مظاہرین نے ایمپلائرز فیڈریشن کے علاقائی دفتر کے باہر دھرنا دیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی وزیرِ اعظم پر صدر ژاک شیراک کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ متنازع قانون پر مذاکرات کا دروازہ کھولیں لیکن اس سے خود مسٹر ڈی ویلیپاں کی صدر بننے کی کوششوں اور امیدوں کو زک پہنچے گی۔

ان کی حکومت نے گزشتہ برس فرانس کے نواحی علاقوں میں نوجوانوں کی مدد کے لیئے جن مختلف اقدامات کا فیصلہ کیا تھا موجود متنازع قانون انہی کا حصہ ہے۔

اس قانون کے تحت آجروں کو چھبیس سال سے کم عمر ملازموں کی نوکری کسی بھی وقت ختم کرنے کا اختیار مل رہا ہے اور اس کے لیئے انہیں نہ کوئی وضاحت دینی پڑے گی اور نہ پیشگی وارننگ۔

حکومت کہتی ہے کہ اس قانون کی مدد سے آجر نوجوانوں کو ملازم رکھ سکیں گے لیکن طلبا کہتے ہیں کہ اس سے فرانس میں ملازمتوں میں اسحتکام ختم ہو جائے گا جہاں پہلے ہی اٹھارہ سے پچیس برس کی عمر کے بیس فیصد افراد بے روزگار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد