صدام حسین کی بھوک ہڑتال ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول کیے گئے عراقی صدر صدام حسین نے گیارہ روز سے جاری رہنے والی بھوک ہڑتال ’خرابی صحت‘ کے باعث ختم کردی ہے۔ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان ان کے وکیل نے کیا۔ خلیل دلیمی نے کہا کہ ان کے موکل کا وزن چار سے پانچ کلو کم ہوگیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ذہنی طور پر وہ اتنے ہی مضبوط ہیں۔ صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر احتجاجاً بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ صدام اور ان کے ساتھیوں پر 1982 میں دجیل میں 148 افراد کے قتل عام کے الزامات ہیں تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ صدام حسین نے بھوک ہڑتال کا اعلان 14 فروری کوکیا تھا۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان کے ساتھیوں نے بھوک ہڑتال جاری رکھی ہے یا نہیں۔ عدالتی کارروائی سست پیش رفت، ملزمان اور وکلاء کی جانب سے بائیکاٹ، چحف جج کے مستعفی ہونے اور وکیل دفاع کے قتل جیسے مسائل کے سبب تاخیر کا شکار ہے۔ اب اگلی پیشی 28 فروری کو ہوگی۔ | اسی بارے میں صدام کے مقدمے کا نیا جج مقرر23 January, 2006 | آس پاس مشتعل صدام عدالت میں13 February, 2006 | آس پاس ’صدام کوگرا کر شایدپچھتانا پڑے‘09 February, 2006 | آس پاس صدام غیر حاضر، مقدمہ جاری 01 February, 2006 | آس پاس صدام مقدمہ: بدنظمی، واک آؤٹ29 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||