BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 February, 2006, 00:00 GMT 05:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متنازعہ واقعے پر دو’میونخ‘ فلمیں

سٹیون سپیلبرگ
سٹیون سپلبرگ نے فلم میں اِن قاتلانہ حملوں کی ڈرامائی تشکیل کی ہے
اگر سٹیون سپیلبرگ کی فلم ’میونخ‘ نے 1972 اولمپکس میں گیارہ اسرائیلی کھلاڑیوں کی ہلاکت پراسرائیلی ردعمل کے تاریخی حقائق پر ایک نئی بحث کو جنم دیا تھا تو چینل فور پر نشر ہونے والی فلم ’میونخ: موساد کا انتقام‘ میں اس معاملے پر ایک اچھوتے انداز میں نظر ڈالی گئی ہے اور واقعے کے بعد اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد کے ایجنٹوں کی انتقامی کارروائیوں کو منظرعام پر لایا گیا ہے۔

جاز، ریڈرز آف دی لوسٹ آرک اور جوراسک پارک جیسی باکس آفس ہٹ فلموں کے خالق، ہالی وڈ کے مشہور فلم ساز، سٹیون سپیلبرگ کی فلم میونخ نے تاریخ کے اوراق میں دبے ایک ایسے متنازعہ واقعے کو دوبارہ دنیا کے سامنے لاکھڑا کیا جس کی یاد اسرائیل کے یہودیوں اور فلسطین کے مسلمانوں کے دل سے شائد کبھی بھی نہ مٹ سکے۔

انیس سو بہتر میں میونخ اولیمپکس میں گیارہ اسرائیلی کھلاڑیوں کو ایک فلسطینی شدت پسند گروپ نےاغوا کرکے ہلاک کردیا تھا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور اُس وقت کی اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا مئیر نے اس کے ردعمل میں ایک ایسے انتقامی منصوبے کی منظوری دی جو بعد میں آپریشن راتھ آف گاڈ یا آپریشن قہر خدا کے نام سے مشہور ہوا۔

دو کردار فلم میونخ کے ایک منظر میں
تاریخ شاہد ہے کہ اسرائیلی قاتلوں نے جس طرح پی ایل او کے ارکان پر نہایت پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ قاتلانہ حملے کئے اس کے خون کی لکیر بیروت سے روم تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس آپریشن میں قتل کئے جانے والوں کا تعلق کبھی بھی میونخ میں اسرائیلی کھلاڑیوں کی ہلاکت سے ثابت نہ ہوسکا بلکہ ان میں سے کئی کا تعلق تو فلسطین کی جدوجہد آزادی تک سے بھی نہیں تھا۔ فلم ساز سٹیون سپلبرگ نے فلم میونخ میں جس طرح اِن قاتلانہ حملوں کی ڈرامائی تشکیل کی ہے اُس سے اِس کارروائی سے پیدا ہونے والے نظریاتی اختلافات ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

برطانوی ٹیلیویژن چینل فور پر نشر ہونے والی دستاویزی فلم ’میونخ: موساد کا انتقام‘ میں حقیقت فلم میونخ سے کہیں مختلف نظر آتی ہے۔ اس فلم میں پہلی مرتبہ اس آپریشن میں حصہ لینے والے موساد کے ایجنٹوں نے میونخ کے واقعے پر اسرائیلی حکومت کے ردعمل سے پردہ اٹھایا ہے۔ جس میں حکومت کی منظوری کے ساتھ اِن تربیت یافتہ قاتلوں کو مشرق وسطیٰ اور یورپ کے مختلف شہروں میں پی یل او کے شدت پسندوں کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے بھیجا گیا۔ انتھونی گیفن کی بنائی ہوئی اس دستاویزی فلم میں چونتیس سال گزرنے کے بعد بھی موساد کے ایجنٹ پی ایل او کے ارکان پر کئے جانے والے اِن قاتلانہ حملوں پر شرمندہ ہونے کے بجائے خاصے مسرور نظر آتے ہیں۔

سٹیون سپلبرگ اپنے کردار بانڈ کریگ کے ہمراہ
’میونخ: موساد کا انتقام‘ نامی اس دستاویزی فلم میں موساد کے اس غیر معمولی آپریشن کے حقائق کو خود اس میں شامل افراد کی یادداشتوں کے ذریعے سامنے لایا گیا ہے۔ جن میں سابق اسرائیلی وزیر اعظم اے ہود براک اور موساد کے سابق نائب سربراہ ڈیوڈ کمچی بھی شامل ہیں۔ اے ہود براک اسرائیلی آرمی کے ایک ایسے اعزاز یافتہ افسر رہے ہیں جنہوں نے بیروت میں آپریشن سپرنگ آف یوتھ نامی خفیہ کارروائی کی قیادت کی تھی۔ جس میں پی ایل او کے تین ارکان کو قتل کرنے کی کاروائی میں کئی عام شہری بھی اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔

اے ہود براک کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے نہ صرف اُن دہشت گردوں کو قتل کیا بلکہ اس کارروائی میں سات یا آٹھ لبنانی پولیس والےاور ایک دھشت گرد کی بیوی بھی مارے گئے۔

اس فلم میں ان لوگوں کے تاثرات بھی شامل ہیں جنہوں نے یہ آپریشن خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ آپریشن جس کے تحت پیرس، روم، بیروت، قبرص، اور ناروے کے ایک چھوٹے سے قصبے لیل ہیمر تک میں کاروائیاں کی گئی۔

پی ایل او کے رکن بسام ابو شریف جو ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، انہیں اب بھی وہ خوف یاد ہے جو اس آپریشن کی وجہ سے انیس سو بہتر اور تہتر میں فلسطینی عوام میں پیدا ہوگیا تھا۔

فلم کی عکس بندی تین ماہ تک جاری رہی
’میں کبھی مسلسل دو راتیں ایک چھت تلے بسر نہیں کرتا تھا۔ مجھے اپنی کاریں تبدیل کرنا پڑتی تھیں۔ لوگوں سے بھری پری جگہوں پر جانا میں نے بلکل چھوڑدیا تھا یہاں تک کہ مجھے اپنے بچوں سے ملنا بھی چھوڑنا پڑا۔ میرے لئے یقیناً وہ ایک جنگ تھی۔‘

آخر کار اس خونی آپریشن راتھ آف گاڈ کا اختتام ناروے کے ایک پرسکون قصبے لیل ہیمر میں کئے جانے والے ایک قتل کے بعد ہوا جس میں موساد کے ایجنٹوں نے ایک فلسطینی شدت پسند کے دھوکے میں غلطی سے ایک معصوم مراکشی تارک وطن کو ہلاک کردیا تھا۔ ان ایجنٹوں نے گرفتاری کے بعد گولڈا مئیر کی قیادت میں اسرائیلی حکومت کے اس خفیہ منصوبے کا پول بھی کھول ڈالا۔ اور یوں بین الاقوامی دباؤ میں آکر موساد کو آخر کار اس آپریشن کو ختم کرنا پڑا۔

دوسری عالمگیر جنگ میں نازیو کے ہاتھوں یہودیوں کی تاریخی نسل کشی پر بنائی گئی فلم شنڈلرز لسٹ سمیت دنیا بھر میں شائقین سنیما کو کئی بلاک بسٹر فلمیں دینے والے فلمساز، سٹیون سپیلبرگ کے فلمسازی میں جوہر کا سب کو ہی اعتراف ہے۔ لیکن کیا خود یہودی ہونے کے ناطے وہ اپنی نئی فلم میونخ میں انیس سو بہتر کے اولمپکس مقابلوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائی کےجواب میں اسرائیلی ردعمل کے حقائق سے انصاف کرسکے ہیں؟ اس سوال کا جواب ناقدین فلم کے بجائے تاریخ داں ہی دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
اینگ لی اور ان کی فلم بہترین
12 December, 2005 | فن فنکار
گیشا کی کہانی فلم کے پردے پر
01 January, 2006 | فن فنکار
فلسطینی فلم اسرائیلی گریزاں
22 January, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد