فلسطینی فلم اسرائیلی گریزاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی گولڈن گلوب ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی فلم’ پیراڈائز ناو‘ کے پروڈیوسر نے کہا ہے کہ دو فلسطینی خودکش حملہ آوروں پر بننے والی اس فلم کو اسرائیل کے بڑے سنیما گھر نمائش کے لیے پیش کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ امیر ہیریل نے کہا کہ اس فلم کی نمائش اب نجی آرٹ ہاوسز تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ پیراڈائز ناؤ نابلس کے دو دوستوں کے بارے میں ہے جو خودکش حملے کرنے کے لیے خود کو رضاکارنہ طور پر پیش کر دتیے ہیں اور اسی وجہ سے اسرائیلی سنیما گھر اس کی نمائش سے انکار کر رہے ہیں۔ شیرت گال کا جو اسرائیل کے سب سے بڑے فلم ڈسٹربیوٹر کےساتھ کام کرتے کہنا ہے کہ اسرائیل سنیماوں گھروں کے مالک سمجھتے ہیں کہ یہ فلم زیادہ پیسہ نہیں کما سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اس قسم کے مسائل میں انتہائی قوم پرست اور محب وطن ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں فلم پر ہونے والی تنقید کی وجہ سے بھی بہت سے فلم ڈسٹربیوٹرز اور سنیما گھر فلم دکھانے سے گریز کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے ایک بڑے اخبار تروشلم پوسٹ نے حال ہی میں فلم پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس میں ولن کو ہیرو بناکر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہیریل کا کہنا ہے کہ سنیما گھروں کے مالک نہیں چاہتے کہ ان کے سنیما گھروں کے باہر سیاسی مظاہرے کیے جائیں اور ان کا کاروبار متاثر ہو۔ | اسی بارے میں بیفٹا ایوارڈز کی نامزدگیوں کا اعلان19 January, 2006 | پاکستان سوہنی مہینوال کو نمائش کی اجازت 20 January, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||