’شیرون کا صحتیاب ہونا یقینی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اگرچہ وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کی سانس بحال ہوگئی ہے لیکن اب بھی ان کا صحتیاب ہونا کوئی یقینی بات نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ایریئل شیرون کو ابھی تک جسمانی طور پر کئی پیچیدگیوں کا سامنا ہے جو ان کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہیں۔ پیر کو ڈاکٹروں نے ایریئل شیرون کو دی جانے والی بے ہوشی کی دواؤں میں قدرے کمی کر دی اور انہوں نے درد پر ردِ عمل بھی ظاہر کیا تاہم طبی عملے کا کہنا ہے کہ صحتیابی کا عمل ابھی دور ہے۔ ایریئل شیرون اپنی دائیں ٹانگ اور دائیاں ہاتھ چلانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن یہ حرکت معمولی سے تھی۔ ’اب بھی جو باتیں سامنے آ رہی ہیں ان کی نوعیت کمزور ہے اگرچہ وہ حوصلہ افزاء ہیں اور عین ممکن ہے کہ وزیرِ اعظم تیزی کے ساتھ ان سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ ’ڈاکٹر کیتھ سلر کا کہنا ہے کہ چونکہ وزیرِ اعظم شیرون پر بے ہوشی کی دواؤں کا اثر ہے لہذا نہیں کہا جا سکتا کہ اصل صورتِ حال کیا ہے۔ وہ ابھی تک خطرے سے باہر نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے دماغی صحت کا صحیح تعین اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ بے ہوشی سے باہر نہیں آتے۔ البتہ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ وہ بغیر کسی مدد کے سانس لے رہے ہیں۔ ’یہ پہلی علامت ہے جو ظاہر کر رہی ہے کہ ان کا دماغ کام کر رہا ہے۔‘ جب ڈاکٹر ان کے دماغ کا تجزیہ کر چکیں گے تو وہ اپنی رپورٹ میں اٹارنی جنرل کو بتائیں گے کہ ایریئل شیرون کے دماغ کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ گزشتہ روز ں ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وہ پیر کے روز زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کو بے ہوشی کی حالت سے باہر نکالنے کی کوشش کریں گے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو جنہیں بدھ کے روز دل کا شدید دورہ پڑا تھا، مسلسل بے ہوش رکھنے کی ادویات دی جا رہی ہیں جنہیں رفتہ رفتہ کم کیا جائے گا۔ جس ہسپتال میں شیرون زیرِ علاج ہیں وہاں کے ڈائریکٹر شالوم موریوسف نے کہا ہے کہ اتوار کو بھی وزیرِ اعظم کا دماغی معائنہ کیا گیا جس سے پتہ چلا ہے کہ کچھ بہتری کے آثار ہیں۔ ان کی دماغ پر جو سوجن تھی وہ کم ہوئی ہے اور دباؤ نارمل ہے۔ دل کے دورے کے بعد ایریئل شیرون کے دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی اور اس سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔ کئی گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد ڈاکٹر اس بات میں کامیاب ہوگئے تھے کہ دماغ سے خون بہنا روک سکیں لیکن اگلے روز پھر ان کے دماغ سے خون بہنا شروع ہوگیا جس کے بعد ان کی دماغ کے تین آپریشن کیے گئے۔ ادھر اتوار کو ایریئل شیرون کے بغیر کابینہ کے پہلے باقاعدہ اجلاس کے بات اسرائیل کے قائم مقام وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ مسٹر شیرون صحتیاب ہو جائیں گے۔ تاہم وہ نیورو سرجن جنہوں نے اٹھہتر سالہ وزیرِ اعظم کا آپریشن کیا تھا کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کے بچ جانے کے امکانات بہت روشن ہیں لیکن پھر بھی وہ وزیرِ اعظم کے طور پر اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ پائیں گے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||