شیرون کو آج ہوش میں لایا جایا گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وہ پیر کے روز زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کو بے ہوشی کی حالت سے باہر نکالنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم اس کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اتوار کی رات وزیرِ اعظم شیرون کی حالت کیسی رہتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو جنہیں بدھ کے روز دل کا شدید دورہ پڑا تھا، مسلسل بے ہوش رکھنے کی ادویات دی جا رہی ہیں جنہیں رفتہ رفتہ کم کیا جائے گا۔ جس ہسپتال میں شیرون زیرِ علاج ہیں وہاں کے ڈائریکٹر شالوم موریوسف نے کہا ہے کہ اتوار کو بھی وزیرِ اعظم کا دماغی معائنہ کیا گیا جس سے پتہ چلا ہے کہ کچھ بہتری کے آثار ہیں۔ ان کی دماغ پر جو سوجن تھی وہ کم ہوئی ہے اور دباؤ نارمل ہے۔ دل کے دورے کے بعد ایریئل شیرون کے دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی اور اس سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔ کئی گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد ڈاکٹر اس بات میں کامیاب ہوگئے تھے کہ دماغ سے خون بہنا روک سکیں لیکن اگلے روز پھر ان کے دماغ سے خون بہنا شروع ہوگیا جس کے بعد ان کی دماغ کے تین آپریشن کیے گئے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب وزیرِ اعظم شیرون ہوش میں آ جائیں گے تب ان کی دماغ کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں کوئی تجزیہ کیا جا سکے گا۔ ادھر اتوار کو ایریئل شیرون کے بغیر کابینہ کے پہلے باقاعدہ اجلاس کے بات اسرائیل کے قائم مقام وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ مسٹر شیرون صحتیاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل کے تمام لوگ اور ہم سب چاہتے ہیں کہ جلد ہی ہم اپنے رہنما کو دوبارہ دیکھ سکیں گے۔‘ تاہم وہ نیورو سرجن جنہوں نے اٹھہتر سالہ وزیرِ اعظم کا آپریشن کیا تھا کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کے بچ جانے کے امکانات بہت روشن ہیں لیکن پھر بھی وہ وزیرِ اعظم کے طور پر اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ پائیں گے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||