BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 January, 2006, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مکہ:76 افراد کی ہلاکت کی تصدیق
مکہ کا ہوٹل
ہلاک ہونے والوں میں تیونس اور الجیریا کے لوگ شامل ہیں
سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں حاجیوں کے ایک ہوٹل کی عمارت گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھہتر تک پہنچ گئی ہے۔ اس وقت مکہ میں دس لاکھ سے زائد زائرین موجود ہیں جو سالانہ حج کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کے حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے جبکہ امدادی کارکن رات بھر ملبے کے نیچے دبے ہوئے افراد کو نکالنے کی کوششیں کرتے رہے۔

جمعرات کو حجاج سے بھرے اس ہوٹل کی عمارت گر گئی تھی اور درجنوں حجاج ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

مکہ کی بڑی مسجد کے قریب واقع یہ کئی منزلہ ہوٹل اس وقت گر گیا جب لوگ قریب کی گلیوں میں نماز پڑھ رہے تھے۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں چونسٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد بیس بتائی گئی تھی۔

حکام کے مطابق انہیں ابھی ملبے سے اور لاشوں کے ملنے کی امید ہے تاہم ان کے مطابق جمعہ کے روز سڑک کو آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے تاہم امدادی کارکنوں کو ابھی بھی ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کی امید ہے۔

امدادی کارروائی کے نگران بریگیڈئر حامد الاحمد نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ لوگ ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے زندہ بچ جانے کی امید ہے۔

سعودی عرب کی ریڈ کریسنٹ کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تیونس اور الجیریا کے حجاج تھے۔

غزالی سٹریٹ پر واقع النجد ہوٹل کو زیادہ تر مصر، نیونس اور متحدہ عرب امارات اور بھارت سے آنے والے استعمال کرتے تھے اور یہ عمارت کعبہ سے محض ساٹھ میٹر کے فاصلے پر ہے اور اس کے اطراف میں دوکانیں واقع ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت ہوٹل میں تیس افراد موجود تھے۔ حکومت کے کچھ اہلکاروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہوٹل کی عمارت کی کمزور اور اس کی دیواروں میں دارڑیں پڑ گئی تھیں۔

اس سے قبل سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں گیارہ مرد اور آٹھ عورتیں شامل ہیں۔ جبکہ ایک لاش کی شناخت ہی نہیں ہو سکی تھی۔

بی بی سی کی نامہ نگار رابعیہ پاریکھ نے کہا کہ رات کے وقت امدادی کارکن سرچ لائٹیں لے کر ملبے کے نیچے سے لاشیں نکالنے کا کام کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ حج کے موقع پر پہلے بھی کئی حادثات ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بدترین حادثے میں سن انیس سو نوے میں ایک سرنگ میں بھگدڑ مچنے سے ایک ہزار سے زائد پاؤں کے نیچے روندے گئے تھے۔

اسی بارے میں
حبیب میاں ہوئے حاجی
04 February, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد