انڈونیشیا: دو سو افراد ’ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وسطی انڈونیشیا میں شدید بارشوں کی وجہ سے سینکڑوں گھر بہہ گئے ہیں اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں دو سو افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ جاوا میں پولیس نے بتایا کہ بیشتر مکانات مٹی کے تودوں میں دب گئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ شدید بارش اور تودے گرنے کا یہ سلسلہ دو روز سے جاری ہے۔ امدادی کارکن لوگوں کو بچانے کی کوشش میں ہیں۔ منگل کے روز مشرقی جاوا میں ستاون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ماحولیات کے لیے کام کرنے والے غیرسرکاری اداروں کا کہنا ہے کہ جاوا کے علاقے میں جنگلات کاٹنے کی وجہ سے شدید بارش اور تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بدھ کے روز صبح ہوتے ہی سیجروک نامی گاؤں پر ملبے اور کیچڑ کا سیلاب آگیا جس میں ایک سو سے زائد گھر بہہ گئے۔ ہنگامی امداد پہنچانے والوں کا کہنا ہے کہ ایک لاش نکال لی گئی ہے اور ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ بچ گئے ہوں۔ ملبے اور کیچڑ کا سیلاب تب آیا جب کئی دنوں کی شدید بارش سے مقامی ندی کے کنارے ٹوٹ گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈھائی ہزار سے زائد عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں اور جب ملبہ ہٹایا جائے گا تو مزید لاشیں ملنے کی توقع ہے۔ | اسی بارے میں بحر ہند میں زلزلہ: عینی شاہدین کی رپورٹیں26 December, 2004 | آس پاس انڈونیشیا: ایک سے دو ہزار ہلاک28 March, 2005 | آس پاس انڈونیشیا: لاشیں نکالنے کا کام جاری30 March, 2005 | آس پاس انڈونیشیا کے ساحل پر زلزلہ19 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||