مصر: انتخابی جھگڑے، تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے میں جھگڑوں کے دوران تین افراد پولیس کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہو گئے۔ ان انتخابات میں صدر حسنی مبارک کی جماعت ’نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی‘ کو ممنوعہ مذہبی جماعت اخوان المسلمین سے منسلک امیدواروں کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا رہا ہے۔ انتخابات کے نگرانوں کا کہنا ہے کہ چند علاقوں میں پولیس نے حکومت مخالف جماعت اخوان المسلمین کے حامیوں کے خلاف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔ یہ لوگ پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھی۔ اس پارٹی پر قانونی طور پر پابندی ہے اور اس کے امیدوار آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس الیکشن میں انہیں بیس فیصد کے قریب نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ان ہلاکتوں کے بعد نومبر کی نو تاریخ سے شروع ہونے والے اس انتخابی عمل کے دوران مارے جانے والے لوگوں کی کل تعداد چھ ہو گئی ہے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ پولیس اس کے حامیوں کو روکنے کے لیے یہ حربے استعمال کر رہی ہے اور اس کا مقصد حکمران جماعت ’نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی‘ کو فائدہ پہنچانا ہے۔ امریکہ نے انتخابات کے انعقاد کے طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مصر میں اصلاحات کے بارے میں منفی اشارے مل رہے ہیں۔ انتخابات کے نگرانوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے شمالی قصبے دمیتا میں ووٹروں پر آتشیں اسلحہ کا استعمال کیا جس سے تین افراد ہلاک ہو گئے۔ چند رپورٹیں اس دعویٰ کی تردید کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے ربڑ کی گولیاں استعمال کی تھیں۔ وزارت داخلہ نے دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن اس سلسلے میں پولیس کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق کائرو میں پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز فسادات میں چھ سو افراد زخمی ہوئے اور 80 لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ دریائے نیل کے علاقے میں واقع قصبہ زگازگ میں جہاں حکومت مخالف جماعت کے امیدوار کی کامیابی متوقع تھی، اخوان المسلمین کی حامی خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ حکومت کے حامیوں نے مسلح ہو کر ان پر حملہ کیا۔ بدھ کے روز وزارت داخلہ کے ترجمان ابراہیم حماد نے کہا کہ ’انتخابی عمل پر امن طریقے سے جاری ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ صرف دس پولنگ سٹیشنوں پر گڑبڑ ہوئی ہے جہاںاخوان المسلمین کے ’بدمعاشوں‘ نے ماحول کو خراب کیا۔ اخوان المسلمین کے مطابق ان دنوں میں اس کے 1400 کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں سے اکثر انتخابی مہم کا اہم حصہ تھے۔ اس پارٹی نے حالیہ انتخابات میں 76 نشستیں حاصل کی ہیں جو گزشتہ انتخابات کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہیں۔ 127 ضلعوں میں دوبارہ انتخاب کا عمل ہو رہا ہے۔ بی بی سی کے نمائندہ حیبہ صالح کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی اس بڑھتی ہوئی مقبولیت نے حکام کو پریشان کر دیا ہے اور وہ اب اس کو روکنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں صدر حسنی مبارک کی حکمران جماعت کو برتری حاصل رہے گی لیکن آنے والے وقت میں اس کے اقتدار کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اخوان المسلمین کی غیر متوقع کامیابی سے حکومت کے لیے اس پر زیادہ عرصہ کے لیے پابندی لگائے رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس صورت حال نے مصر کو آمریت اور مذہبی سیاست کے دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں مصرکے انتخابات میں تشدد01 December, 2005 | آس پاس مصر: انتخابات میں تشدد کے واقعات27 November, 2005 | آس پاس حسنی مبارک کا انتخاب مسترد10 September, 2005 | آس پاس مبارک: ووٹ کم کامیابی زبردست09 September, 2005 | آس پاس مصر میں ووٹوں کی گنتی شروع08 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||