مصر میں ووٹوں کی گنتی شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے پہلے صدارتی انتخابات میں ،جن میں ایک سے زیادہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں، ووٹوں کی گنتی شروع ہوچکی ہے اور زیادہ تر اندازوں کے مطابق موجودہ صدر حسنی مبارک پانچویں مرتبہ چھ برس کے لئے منتخب ہوجائیں گے۔ مصری حکومت ملک میں ایسے پہلے انتخابات کے انعقاد کو سراہا رہی ہے جبکہ اپوزیشن اور انسانی حقوق کے گروپوں کا الزام ہے کہ انتخابی عمل میں دھاندلی کی گئی ہے۔ ان الزامات میں ووٹروں کو ڈرانا دھمکانا، بیلٹ پیپر کا فراڈ، کئی مرتبہ ووٹ ڈالنے اور الیکشن کے دن مہم چلانے کے الزامات شامل ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق انتخابات میں ووٹروں کا ٹرن آؤٹ بہت زیادہ نہیں تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کا رش تھا لیکن بی بی سی کی نامہ نگار حبہ صالح کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا نہیں دیکھا۔ مصر میں کئی عشروں سے تحکمانہ دور اور میڈیا پر سرکاری کنٹرول کے باعث زیادہ تر لوگ سیاست سے بیزار ہوچکے ہیں۔ صدر حسنی مبارک کے سب سے بڑے مد مقابل ایمن نور نے کہا ہے کہ وہ الیکشن ’قطعی طور پرمنصفانہ نہیں‘ تھے اور وہ ان انتخابات کے نتائج کو رد کردیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں دیہی علاقوں میں صرف پندرہ سے بیس فیصد لوگوں نے اور شہروں میں تین سے پانچ فیصد نے ووٹ ڈالے۔ انتخابی مبصرین نے بھی کہا ہے کہانتخابی عمل میں بے قاعدگیاں کی گئی ہیں اور کئی جگہوں پر ووٹروں کو بسوں میں لاد کر پولنگ سٹیشن لایا گیا ہے اور انہیں صدر حسنی مبارک کو ووٹ ڈالنے کے لئے کہا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||