BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 November, 2005, 23:13 GMT 04:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
100 ڈالر کے لیپ ٹاپ کی نمائش
سبز رنگ کا سستا لیپ ٹاپ
’غربت، امن اور ماحول جیسے بڑے مسائل تعلیم سے ہی حل ہو سکتے ہیں اور یہ لیپ ٹاپ اس مہم کا اہم پہلو ہوگا‘
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے طالب علموں کے لیے ایک سستے لیپ ٹاپ کی تیاری کو ’عالمی یکجہتی کا مظہر‘ قرار دیا ہے۔

امریکہ کی جامعہ ایم آئی ٹی کے نکولس نیگروپونٹے نے تیونس میں سبز رنگ کے اس لیپ ٹام کو پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا۔

نیگروپونٹے کا پروگرام ہے کہ آئندہ ایک سال میں ایک سو ڈالر والی قیمت کے لاکھوں لیپ ٹاپ تیار کیے جائیں۔ یہ لیپ ٹاپ بہت کم توانائی سے چلتے ہیں اور بچوں کو درس کے دوران ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے میں مدد دیں گے۔

کوفی عنان نے کہا کہ اس لیپ ٹاپ کی مدد سے بچے عمل کے ذریعے علم حاصل کریں گے اور استاد کی رہنمائی ان کے لیے واحد ذریعہ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بچے ایک دوسرے سے سیکھ سکیں گے اور حصول علم کی نئی حدود مقرر ہوں گی۔

پروفسر نیگروپانٹے نے ایک لیپ ٹاپ فی بچہ کے نام سے ایک غیر سرکاری ادارہ قائم کیا ہے جو ترقی پزیر ممالک کو لیپ ٹاپ بھیجتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امیر گھرانے کے بچوں میں کمپیوٹر کا شوق زیادہ آسانی سے پیدا ہوتا ہے تاہم ترقی پزیر ممالک میں غریب بچے بھی کمپیوٹر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے لیپ ٹاپ کو عام کمپیوٹر کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ بچے اس پر گیم کھیل سکتے ہیں اور ٹی وی بھی دیکھ سکتے ہیں۔

لیپ ٹاپ میں کئی ممالک نے دل چسپی ظاہر کی ہے جن میں تھائی لینڈ اور برازیل سب سے آگے ہیں تاہم یہ اب تک منڈی میں نہیں لایا گیا۔

پروفسر نیگروپانٹے نے کہا کہ تھائی لینڈ اور برازیل کو کہا گیا ہے کہ وہ اس وقت تک لیپ ٹاپ خریدنے کا معاہدہ نہ کریں جب تک وہ اس کی کارکردگی نہ دیکھ لیں۔

آٹھ بڑے کاروباری اداروں نے بھی لیپ ٹاپ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

لیپ ٹاپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ربڑ کیس استعمال کیا جائےگا۔

پروفسر نیگروپانٹے کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپ پہلے چھ ممالک میں متعارف کروایا جائے گا اور چھ ماہ بعد دیگر ممالک میں لے جایا جائےگا۔

ان چھ ممالک کا تعلق ایشیا، افریکہ اور جنوبی امریکہ سے ہے۔

کئی مشہور شخصیات اور ادارے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں جن میں انٹرنیٹ کا ادارہ گوگل اور امریکی کروڑ پتی روپرٹ مرڈاک شامل ہیں۔

پروفسر نیگروپانٹے نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچے لیپ ٹاپ خرید سکیں اور اس وجہ سے ان کے خیال میں زیادہ سے زیادہ بنانے ہونگے تاکہ ان کی قیمت کم رکھی جا سکے۔

پروفسر نیگروپانٹے نے کہا کہ غربت، امن اور ماحول جیسے بڑے مسائل تعلیم سے ہی حل ہو سکتے ہیں اور یہ لیپ ٹاپ اس مہم کا اہم پہلو ہوگا۔

اسی بارے میں
لیپ ٹاپ 100 ڈالر سے بھی کم میں
29 September, 2005 | نیٹ سائنس
ٹی بی کی سکرینگ کا نیا آلہ
11 April, 2004 | نیٹ سائنس
ہندوستانی آلو: گوشت کی توانائی
13 February, 2005 | نیٹ سائنس
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد