100 ڈالر کے لیپ ٹاپ کی نمائش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے طالب علموں کے لیے ایک سستے لیپ ٹاپ کی تیاری کو ’عالمی یکجہتی کا مظہر‘ قرار دیا ہے۔ امریکہ کی جامعہ ایم آئی ٹی کے نکولس نیگروپونٹے نے تیونس میں سبز رنگ کے اس لیپ ٹام کو پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا۔ نیگروپونٹے کا پروگرام ہے کہ آئندہ ایک سال میں ایک سو ڈالر والی قیمت کے لاکھوں لیپ ٹاپ تیار کیے جائیں۔ یہ لیپ ٹاپ بہت کم توانائی سے چلتے ہیں اور بچوں کو درس کے دوران ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے میں مدد دیں گے۔ کوفی عنان نے کہا کہ اس لیپ ٹاپ کی مدد سے بچے عمل کے ذریعے علم حاصل کریں گے اور استاد کی رہنمائی ان کے لیے واحد ذریعہ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بچے ایک دوسرے سے سیکھ سکیں گے اور حصول علم کی نئی حدود مقرر ہوں گی۔ پروفسر نیگروپانٹے نے ایک لیپ ٹاپ فی بچہ کے نام سے ایک غیر سرکاری ادارہ قائم کیا ہے جو ترقی پزیر ممالک کو لیپ ٹاپ بھیجتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیر گھرانے کے بچوں میں کمپیوٹر کا شوق زیادہ آسانی سے پیدا ہوتا ہے تاہم ترقی پزیر ممالک میں غریب بچے بھی کمپیوٹر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیپ ٹاپ کو عام کمپیوٹر کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ بچے اس پر گیم کھیل سکتے ہیں اور ٹی وی بھی دیکھ سکتے ہیں۔ لیپ ٹاپ میں کئی ممالک نے دل چسپی ظاہر کی ہے جن میں تھائی لینڈ اور برازیل سب سے آگے ہیں تاہم یہ اب تک منڈی میں نہیں لایا گیا۔ پروفسر نیگروپانٹے نے کہا کہ تھائی لینڈ اور برازیل کو کہا گیا ہے کہ وہ اس وقت تک لیپ ٹاپ خریدنے کا معاہدہ نہ کریں جب تک وہ اس کی کارکردگی نہ دیکھ لیں۔ آٹھ بڑے کاروباری اداروں نے بھی لیپ ٹاپ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ لیپ ٹاپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ربڑ کیس استعمال کیا جائےگا۔ پروفسر نیگروپانٹے کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپ پہلے چھ ممالک میں متعارف کروایا جائے گا اور چھ ماہ بعد دیگر ممالک میں لے جایا جائےگا۔ ان چھ ممالک کا تعلق ایشیا، افریکہ اور جنوبی امریکہ سے ہے۔ کئی مشہور شخصیات اور ادارے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں جن میں انٹرنیٹ کا ادارہ گوگل اور امریکی کروڑ پتی روپرٹ مرڈاک شامل ہیں۔ پروفسر نیگروپانٹے نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچے لیپ ٹاپ خرید سکیں اور اس وجہ سے ان کے خیال میں زیادہ سے زیادہ بنانے ہونگے تاکہ ان کی قیمت کم رکھی جا سکے۔ پروفسر نیگروپانٹے نے کہا کہ غربت، امن اور ماحول جیسے بڑے مسائل تعلیم سے ہی حل ہو سکتے ہیں اور یہ لیپ ٹاپ اس مہم کا اہم پہلو ہوگا۔ | اسی بارے میں لیپ ٹاپ 100 ڈالر سے بھی کم میں29 September, 2005 | نیٹ سائنس انسانی نشوونما کاغذائی افلاس 24 March, 2004 | نیٹ سائنس ٹی بی کی سکرینگ کا نیا آلہ11 April, 2004 | نیٹ سائنس ہندوستانی آلو: گوشت کی توانائی13 February, 2005 | نیٹ سائنس ’زمین پر انسان کے مستقبل کو خطرہ‘30 March, 2005 | نیٹ سائنس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||